عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کو پسپا کرنے میں سعودی عرب نے امریکہ ، برطانیہ ، اردن اور فرانس کی مدد کی تھی۔
بہت سے ڈرونز اور میزائلوں کو اسرائیل تک پہنچنے کے لیے اردن اور سعودی فضائی حدود سے گزرنا پڑا تھا۔
سعودی شاہی خاندان سے منسلک ایک فرد کے مطابق ملک کے پاس اپنی فضائی حدود میں کسی بھی مشکوک ہستی کو خود بخود روکنے کا نظام موجود ہے۔اور ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا کہ ایران نے اپنے پراکسی گروپ حماس کے ذریعے غزہ جنگ پر اکسایا تاکہ سعودی عرب کو معمول پر لانے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
