پاکستان سے امریکہ کے لیے براہ راست پروازوں کا امکان

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف ایف اے) پاکستان کی سیفٹی ریٹنگ کو کیٹیگری 1 میں اپ گریڈ کر سکتا ہے، جس سے پاکستانی ہوائی اڈوں سے براہ راست پروازوں کی اجازت مل جائے گی ۔

سال 2017 میں جب ایف اے اے نے پاکستان کے ایوی ایشن سیفٹی ریکارڈ پر خدشات کی وجہ سے پاکستان کی کیٹیگری 2 میں تنزلی کردی تھی اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہ راست پروازیں نہیں چلتیں۔

سمپل فلائنگ ہوا بازی پر توجہ رکھنے والی ایک خاص نیوز سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ ایف اے اے جلد ہی اپنے انسپکٹرز کو ہوائی اڈوں اور ہوائی جہازوں کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان بھیجے گا۔

ایف ایف اے امریکی حکومت کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹیشن ایجنسی ہے اور ملک میں شہری ہوا بازی کے تمام پہلوؤں کو کنٹرول کرتی ہے۔

سمپل فلائنگ نے رپورٹ کیا کہ اگر ملک کا ایوی ایشن سیکٹر ٹیسٹ پاس کر لیتا ہے، تو اس بات کا اچھا امکان ہے کہ پاکستان کو کیٹیگری 1 کی ریٹنگ ملے گی۔

رواں ہفتے کے اوائل میں وزیراعظم کے اسٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے واشنگٹن میں امریکی حکام کے ساتھ پاکستان کے لیے براہ راست پرواز کی رسائی کھولنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد پاکستانی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سلمان صوفی نے کہا تھا کہ امریکی فریق نے ‘سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ تکنیکی بات چیت کرنے اور براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے درکار دورہ کرنے کے لیے اپنی تیاری سے آگاہ کیا۔’

انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو جلد خراب ہونے والی اشیا کے پاکستانی برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے، ہم نے امریکا سے کراچی بندرگاہ پر ایک انسپکٹر تعینات کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

ان کے مطابق انسپکٹر کی تعیناتی سے آم اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی پیشگی کلیئرنس کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ بغیر کسی تاخیر کے امریکا میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

سمپل فلائنگ نے رپورٹ کیا کہ اگر پاکستان کو کیٹیگری 1 سیفٹی ریٹنگ ملتی ہے، تو ‘پاکستانی ایئرلائنز امریکا کے لیے نئے براہ راست روٹس شروع کرنے اور دیگر ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئرنگ کے معاہدے کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔’

خیال رہے کہ کیٹیگری 1 کی ریٹنگ کا مطلب ہے کہ ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی امریکی معیارات کی تعمیل کرتی ہے۔

یہ درجہ بندی اس ملک کے ہوائی جہازوں کو امریکا کے لیے سروس قائم کرنے اور کوڈ شیئرنگ کے انتظامات کے ذریعے امریکی کیریئرز کے کوڈ کو لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔

ایف اے اے نے 15 جولائی 2020 کو پاکستان کی حفاظتی درجہ بندی کو اس بات کا تعین کرنے کے بعد کم کر دیا کہ یہ اس کے انٹرنیشنل ایوی ایشن سیفٹی اسسمنٹ (آئی اے ایس اے) پروگرام کے تحت انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے حفاظتی معیارات کے مطابق نہیں ہے۔

چنانچہ کیٹیگری 2 سیفٹی ریٹنگ کے ساتھ پاکستانی ایئر لائنز کی امریکی فضائی حدود تک رسائی محدود ہوگئی ہے اور وہ امریکی ایئرلائنز کے ساتھ نئے روٹس یا کوڈ شیئرز قائم نہیں کر سکتی ہیں۔

امریکا نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر اپنا فیصلہ واپس لینے سے ایک ماہ قبل قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو 12 براہ راست چارٹر پروازیں چلانے کی اجازت دے دی تھی۔

Read Previous

گوگل جی میل میں بہتر سرچنگ کے لیے نئی مشین لرننگ ٹیکنالوجی متعارف

Read Next

ترکیہ: استنبول کے قریب جزیرے میں قائم کتابوں کی دکان لوگوں کو ماضی سے جوڑتی ہے

Leave a Reply