ویانا فائرنگ: ترک نوجوان نے زخمی ہونے کے باوجود خاتون اور پولیس افسر کی جان بچائی

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پیر کی رات ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے کے باوجود دو ترک نوجوانوں نے ایک ضعیف خاتون اور زخمی پولیس اہلکار کی جان بچا کر بہادری کی مثال قائم کر دی۔

صدر رجب طیب ایردوان نے آسٹریا میں زخمی ہونے والے ترک نوجوان سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کی اور اس کی بہادری کو سراہا۔

ترک نوجوان رجب طیب گل تکین نے بتایا کہ وہ اپنے دوست میکائیل اون کے ساتھ ایک کیفے جانے کا سوچ رہا تھا کہ اچانک دہشت گردی کا یہ واقعہ رونما ہوا۔

رجب طیب گل تکین نے بتایا کہ اس نے دیکھا ایک ضعیف خاتون فائرنگ سے زخمی ہو گئی تو وہ فوراً اس کی مدد کو پہنچا اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے زخمی خاتون کو وہاں سے نکالنے میں مدد کی۔

ضعیف خاتون کو محفوظ جگہ پہنچایا دہشت گرد کی فائرنگ سے ایک گولی رجب گل تکین کی ٹانگ میں لگی۔

اچانک رجب کی نظر ایک پولیس افسر پر پڑی جو دہشت گرد کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا تھا۔ رجب فوراً پولیس افسر تک پہنچا اور اس فائرنگ رینج سے باہر نکالا۔

موقع پر کئی دوسرے پولیس اہلکار بھی موجود تھے رجب نے ان کو آواز دی لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہ لیا۔

رجب نے کہا کہ پھر اپنے دوست سے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔

دونوں دوست زخمی پولیس افسر تک پہنچے اور اس اٹھا کر ایمبولینس تک پہنچایا۔ پولیس افسر کے پیٹ میں گولی لگی تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا۔

طبی عملے نے رجب طیب گل تکین کو بھی اسپتال لے جانے کی کوشش کی لیکن اس نے انکار کر دیا کیونکہ بہت سے لوگ ابھی تک زخمی حالت میں سڑک پر گرے ہوئے تھے۔

رجب طیب جب اسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ گولی اس کی ٹانگ سے نہیں نکالی جا سکتی کیونکہ اس سے کئی دیگر مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

رجب طیب نے کہا کہ دہشت گردی دہشت گردی ہی ہے۔ آسٹریا کے پولیس اہلکار میری پولیس ہے۔ جو لوگ زخمی ہوئے وہ میرے لوگ ہیں۔ میں آسٹریا کی حکومت سے دہشت گردی کے اس واقعے پر تعزیت کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ زخمی جلد صحت یاب ہو جائیں۔

Read Previous

ترک دفاعی نمائش آئندہ ہفتے شروع ہو گی

Read Next

چیمپینز لیگ میں میدیپول باساکشیر اور مانچسٹر یو نائیٹڈ آمنے سامنے

Leave a Reply