fbpx

9 ماہ میں کورونا وائرس 500 صحافیوں کی جان لے گیا

کورونا وائرس کی عالمی وبا سے اب تک 500 صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جنیوا میں صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم "پریس ایمبلم کیمپین” نے کہا ہے کہ جاں بحق صحافیوں کی تعداد اس سے زائد ہو سکتی ہے کیونکہ بیشتر ممالک سے ڈیٹا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یکم مارچ سے 30 نومبر تک دنیا کے 56 ممالک کے اعداد و شمار اکٹھے کئے ہیں جس کے مطابق کورونا وائرس 500 صحافیوں کی جان لے گیا۔ نومبر میں 47 جبکہ اکتوبر میں 22 صحافی کورونا وائرس سے جاں بحق ہو گئے۔

پریس ایمبلم کیمپین (پی ای سی) کے مطابق میڈیا ورکرز بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور میڈیا انڈسٹری کے لئے یہ ایک بڑا نقصان ہے۔

پی ای سی کے سیکریٹری جنرل بلیز لیمپین کے مطابق بھارت، برازیل، ارجنٹائن اور میکسیکو کے صحافی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان ممالک میں وائرس سے مرنے والے صحافیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کورونا وائرس سے صحافیوں کی اموات 500 سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ کئی ممالک میں صحافیوں کی اموات کے ریکارڈز اور موت کی وجہ نہیں بتائی جا رہی ہے۔

تنظیم نے حکومتوں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کی زندگیوں کو بچانے اور انہیں کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔

پی ای سی کے مطابق مجموعی طور پر 500 ہلاکتوں میں سے نصف لاطینی امریکہ میں ہوئیں جہاں 276 صحافی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔

ایشیا میں اب تک 125، یورپ میں 38، شمالی امریکہ میں 26 جبکہ افریقہ میں اب تک 24 صحافی کورونا وائرس سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مارچ سے نومبر کے دوران پیرو میں سب سے زیادہ 93 میڈیا ورکرز جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 51 صحافیوں کی موت کے ساتھ بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔

تیسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں 43 صحافی کورونا وائرس سے متاثر ہو کر جاں بحق ہوئے۔

ایکواڈور میں 41، بنگلہ دیش میں 39 ، میکسیکو میں 33، امریکہ میں 25، پاکستان میں 12 ، پنامہ میں 11 ، بولیویا میں 9 جبکہ برطانیہ میں 10 صحافی کورونا وائرس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔

پچھلا پڑھیں

مقبوضہ فلسطین سنگین صورتحال سے دوچار ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

اگلا پڑھیں

آذربائیجان نے 10 نومبر کو "یوم فتح” اور 27 ستمبر "یوم شہدائے کاراباخ” قرار دے دیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے