ترکی کو تنازعے کے حل کی بات چیت کے لیے منسک گروپ میں شامل کیا جائے، الہام علی یوف

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے کہا ہے کہ مقبوضہ نیگورنو کاراباخ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جو منسک گروپ 30 سال پہلے قائم کیا گیا تھا اس میں ترکی کو بھی شامل کیا جائے۔

رہبر گلوبل ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے الہام علی یوف نے کہا کہ آرمینیا کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لئے جو مذاکرات شروع ہوں گے اس میں ترکی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن یورپ کے ماتحت جو منسک گروپ قائم کیا گیا تھا اس میں کچھ ممالک ایسے ہیں جو آذربائیجان اور آرمینیا سے بہت دور ہیں۔ منسک گروپ میں شامل روس، امریکہ اور فرانس کا جھکاوٗ آرمینیا کی طرف ہے اور آذربائیجان کو ان ممالک کے گروپ میں شامل ہونے پر تحفظات ہیں۔

کئی سال سے قائم اس گروپ نے ابھی تک آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے نیگورنو کاراباخ کی آزدی کے لئے کسی طرح کے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جس کے باعث آج دونوں ملکوں کے درمیان نوبت جنگ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی شمولیت سے آذربائیجان کو اپنا مقدمہ لڑنے میں آسانی ہو گی کیونکہ خطے میں ترکی نے کئی اہم مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی خطے کی ایک اہم سیاسی، عسکری اور معاشی طاقت بھی ہے۔

الہام علی یوف نے کہا کہ کچھ مغربی ممالک ترکی کی شمولیت پر اعتراض کر رہے ہیں لیکن شام اور لیبیا کے حالیہ تنازعات میں ترکی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے ترکی کو منسک گروپ کا شریک چیئرمین بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ ہفتے کی رات سے اس پر عمل درآمد شروع ہونا تھا لیکن اتوار کی صبح آرمینیا نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آذربائیجان کے گنجان آباد شہر گانجا کی شہری آبادیوں پر حملہ کر دیا۔

یہ حملہ نہ صرف سیز فائر معاہدے بلکہ بین الاقوامین قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ آذربائیجان نے اس حملے کا بھرپور جواب دیا اور آرمینیا کے شہری علاقوں کے بجائے فوج کو براہ راست جواب دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آرمینیا سے آذربائیجان اپنا مقبوضہ علاقہ ہر صورت خالی کروائے گا چاہے اس کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ واضح رہے کہ گانجا کے شہری علاقوں پر آرمینیا کے حملوں سے اب تک 10 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

Read Previous

آرمینیا کو آذربائیجان کے شہریوں پر حملوں کی قیمت چکانی پڑے گی، ترک وزیر دفاع

Read Next

ترکی نے شام میں 600 گھر تعمیر کر کے مختلف خاندانوں میں تقسیم کر دیئے

Leave a Reply