آذربائیجان کا متنازح علاقے کاراباخ کی کئی اسٹریٹجک چوٹیوں پر قبضے کا دعوی

آذربائیجان  نے متنازع علاقے نگورنو کاراباخ کی کئی اسٹریٹیجک چوٹیوں پر قبضے کا دعوی کیا ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تازہ جھڑپوں میں 3 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ آذربائیجان نے متنازع علاقے نگورنو کاراباخ کی کئی اسٹریٹیجک چوٹیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان نئی کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب آذربائیجان نے کہا کہ اس کا ایک فوجی ہلاک کیا گیا ہے جبکہ آرمینیا کی فوج نے کہا کہ اس کے دو فوجی مارے گئے اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے۔

تاہم بعد ازاں آذربائیجان کی فوج  نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک آپریشن کیا اور کاراباخ میں کئی اسٹریٹیجک چوٹیوں  پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

دونوں ملکوں کی جانب سے جاری کشیدگی کے دوران روس نے آذربائیجان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ یورپی یونین نے دشمنی کے فوری خاتمے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ نگورنو کاراباخ کا علاقہ باضابطہ طور پر جمہوریہ آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا بھی اس علاقے پر دعویٰ کرتا ہے اور 90 کی دہائی سے اس پر قابض ہے۔

آرمینیا کا مؤقف ہے کہ نگورنو کاراباخ آرمینیائی نسل کے باشندوں کا مسکن اور صدیوں سے آرمینیا کا حصہ ہے لیکن عالمی سطح پر اسے کبھی بھی آرمینیا کا حصہ نہیں مانا گیا۔

30 برسوں سے جاری اس تنازع پر دونوں ملکوں کے درمیان کئی خونریز تصادم ہوچکے اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے جب کہ آرمینیائی قبضے کے بعد نگورنو کاراباخ سے لاکھوں آذری شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

Read Previous

پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ اور کانسی کا تمغہ جیت لیا

Read Next

دنیا آج مکمل جوہری تباہی سے صرف ایک غلط فہمی کی دوری پر ہے،انتونیو گوتریس

Leave a Reply