Turkiya-Logo-top

ماں نے بازو پر کی بورڈ کا ٹیٹو بنوا لیا، تاکہ آٹزم کا شکار بیٹا ہمیشہ بات کر سکے

امریکا سے تعلق رکھنے والی جیسیکا فلیچر نے اپنے بازو پر کی بورڈ کا ٹیٹو بنوایا تاکہ اگر کبھی ان کے بیٹے کا مواصلاتی آلہ دستیاب نہ ہو تو وہ اس کے ذریعے اپنی بات سمجھا سکے۔

یہ خیال ایک عام سے خاندانی مسئلے کے دوران سامنے آیا۔ جیسیکا اپنے 11 سالہ بیٹے ہنٹر کے ساتھ کھانا کھا رہی تھیں کہ اچانک اس کے اے اے سی ڈیوائس کی بیٹری ختم ہوگئی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اے اے سی یعنی اضافی اور متبادل مواصلاتی نظام ایسے مواصلاتی ذرائع یا ٹیکنالوجی کو کہا جاتا ہے جو ان افراد کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں جو روایتی انداز میں بولنے سے قاصر ہوں یا جنہیں بولنے میں دشواری کا سامنا ہو۔

ہنٹر اپنی اے اے سی ڈیوائس کے ذریعے الفاظ اور علامتیں منتخب کرکے اپنی ضروریات اور خیالات کا اظہار کرتا تھا، لیکن اس موقع پر ڈیوائس کی بیٹری ختم ہونے کے باعث وہ اسے استعمال نہیں کرسکتا تھا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ڈیوائس بند ہونے کے باوجود ہنٹر گھبرایا نہیں۔ اس نے ایک نیپکن اٹھایا اور اس پر کی بورڈ کی شکل بنا دی۔ اس کے بعد وہ اپنی انگلی سے مختلف حروف کی جانب اشارہ کرکے جیسیکا کو بتانے لگا کہ اسے کیا کھانا ہے جیسیکا کے لیے یہ لمحہ انتہائی معنی خیز تھا۔

انہیں احساس ہوا کہ ہنٹر کے پاس بات کرنے کی خواہش اور صلاحیت موجود ہے، اسے صرف اظہار کے لیے ایک مناسب ذریعہ درکار ہے۔ اسی لمحے جیسیکا کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اپنے بازو پر ایک مستقل کی بورڈ بنوا لیں۔

بعد میں انہوں نے واقعی اپنے بازو پر کی بورڈ کا ٹیٹو بنوا لیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اس طرح اگر ہنٹر کبھی اپنی اے اے سی ڈیوائس کے بغیر ہو، اس کی بیٹری ختم ہوجائے یا کسی اور وجہ سے ڈیوائس دستیاب نہ ہو تو وہ اپنی ماں کے بازو پر بنے کی بورڈ کے ذریعے حروف کی جانب اشارہ کرکے اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔

جیسیکا کا یہ منفرد اقدام صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں رہا۔ ان کے خیال نے دوسرے والدین کو بھی متاثر کیا اور بعد میں کی بورڈ کے ڈیزائن والی شرٹس اور دیگر اشیا بھی متعارف کرائی گئیں۔

اس کے علاوہ آٹزم کا شکار بچوں کے والدین کے لیے مفت کی بورڈ ٹیٹو بنوانے کی مہم بھی شروع کی گئی، تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان اپنے بچوں کے لیے مواصلات کا ایک متبادل ذریعہ حاصل کرسکیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ایک نشوونمایی کیفیت ہے جو کسی شخص کے سماجی رابطے، دوسروں کے ساتھ تعامل، رویوں اور حسی تجربات کے انداز کو متاثر کرسکتی ہے۔

آٹزم ہر فرد میں ایک جیسا نہیں ہوتا، اسی لیے اسے اسپیکٹرم کہا جاتا ہے۔ بعض افراد میں علامات نسبتاً کم نمایاں ہوتی ہیں جبکہ کچھ افراد کو روزمرہ زندگی، رابطے اور سماجی تعامل میں زیادہ مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

کچھ آٹزم کے شکار افراد بولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا بالکل نہیں بولتے۔ تاہم غیر گفتاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے یا ان کے پاس خیالات اور جذبات نہیں ہوتے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ایسے افراد اپنی بات سمجھانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرسکتے ہیں، جن میں اشارے، تصاویر، لکھائی، حروف پر مبنی بورڈز اور اے اے سی ڈیوائسز شامل ہیں۔

Read Previous

آپریشن سندور پر بھارتی ڈاکیومنٹری حقائق کو نہیں جھٹلا سکتی، آئی ایس پی آر

Read Next

پاکستان میں گوگل کا دفتر کھل گیا، طلبہ کے لیے جیمینائی کی مفت رسائی

Leave a Reply