پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ طے,پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونگے

برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرار ہونے والے مجرموں کو برطانیہ سے پاکستان واپس لایا جا سکے گا۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مجرموں کو برطانیہ سے پاکستان واپس منتقل کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

پریتی پٹیل نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے نیو پلان فار امیگرشن ان ایکشن کی عملی شکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور مجھے ایسے لوگوں کو برطانیہ سے بے دخل کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

وزیرداخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہمارے قوانین سے کھلواڑ کرتے ہیں جب کہ ہم انہیں بے دخل نہیں کرسکتے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیو پلان فار امیگرشن ان ایکشن معاہدہ، جس پر اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ دستخط کرنے پر مجھے فخر ہے، حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کو ظاہر کرتا ہے۔

پریتی پٹیل نے کہا کہ ہمارا نیا بارڈرز ایکٹ اس سلسلے میں مزید سہولت فراہم کرے گا اور آخری لمحات پر کی جانے والی اپیلوں کے سلسلے کو ختم کرنے میں مدد کرے گا جو ایسے افراد کی ملک سے بے دخلی میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

دوسری جانب، اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس معاہدے کی تجدید اور تازہ ترین صورتحال ہے جس میں اکتوبر 2009 میں دو طرفہ طور پر طے کیا گیا تھا کہ پاکستان اور یورپی ممالک بغیر اجازت کے قیام پذیر افراد کو ملک سے بے دخل کریں گے۔

یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد اس دوطرفہ معاہدے کی تجدید کی ضرورت تھی۔

اعلامیے کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ایک تصویر میں پریتی پٹیل کو سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے ساتھ دستخط کی تقریب میں دکھایا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری داخلہ نے یوسف نسیم کھوکھر اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان سے دوطرفہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ملاقات کی۔

نئے معاہدے کے تحت، مجرموں، ناکام پناہ گزینوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مجرموں سمیت برطانیہ میں قیام کا قانونی حق نہ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو مبینہ طور پر بے دخل کردیا جائے گا۔

جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں غیر ملکی مجرموں کی ساتویں بڑی تعداد ہیں جو کہ غیر ملکی شہریوں کی مجموعی آبادی کا تقریباً 3 فیصد بنتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے عزم کا مظہر ہے اور اس سے دونوں ممالک کو لاحق ہونے والے بڑے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کے تحت برطانیہ اور پاکستان کے درمیان قانون کے نفاذ کے سلسلے میں جاری تعاون کو مزید بہتر بنانے اور بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ پاکستان برسوں سے برطانیہ کے ساتھ تحویل مجرمان کے معاہدے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن یہ معاہدہ پاکستان کے مطالبات کو پورا نہیں کرتا۔

کچھ وکلا اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں، معاہدے کے تحت اب برطانیہ سے جلاوطن مجرموں کی آمد ہوگی، جن میں وہ مجرم بھی شامل ہیں جو اس سے قبل کبھی پاکستان نہیں آئے۔

برطانیہ میں مقیم امیگریشن قانون کے ماہر محمد امجد نے میڈیا کو بتایا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے بہت منفی ہے، گزشتہ سال، پاکستانی حکومت کو یہ معاہدے پیش کیا گیا تھا جس پر اس نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو اہم معلومات کے اشتراک کے بغیر پاکستان کے حوالے کیا جائے گا، اس سے پاکستان کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔

Read Previous

کابل: مسجد میں دھماکہ، 21 افرادجاں بحق 50 سے زائد زخمی

Read Next

ترکیہ اور اسرائیل کا سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ

Leave a Reply