Turkiya-Logo-top

’’امریکہ میں ہندوتوا نامنظور‘‘، نیویارک میں موہن بھاگوت کی تقریب کے خلاف احتجاج

نیویارک میں سینکڑوں مظاہرین نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کی میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقدہ تقریب کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرے میں مسلمانوں، سکھوں، مسیحیوں، دلتوں، ہندوؤں اور یہودیوں سمیت مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے تقریب کے مقام کے باہر جمع ہو کر آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریے کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاج کے منتظمین اور شرکا نے الزام عائد کیا کہ ہندوتوا کی سیاست مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے خطرہ بن رہی ہے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مظاہرین نے میڈیسن اسکوائر گارڈن کے داخلی راستے کے قریب احتجاج کرتے ہوئے آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا

مظاہرین کے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اور بینرز بھی موجود تھے، جن کے ذریعے ہندوتوا نظریے اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائی گئی

انڈین امریکن مسلم کونسل سے وابستہ صفا احمد نے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس اور اس کے نظریے پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمان صدیوں سے موجود ہیں اور بھارتی معاشرے، زبان، خوراک، لباس، موسیقی اور تاریخی ورثے پر مسلمانوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

صفا احمد کے مطابق، ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششیں یا مذہبی کشیدگی کے واقعات ہندوستان کی کثیر مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ختم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ملک کا حصہ ہیں اور انہیں ملک کی تقدیر سے متعلق فیصلوں میں برابر کا حق حاصل ہونا چاہیے ’’مسلمان ہندوستان میں موجود رہیں گے‘

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

صفا احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام اور مسلمان تقریباً 1400 سال سے ہندوستان میں موجود ہیں اور آنے والی نسلوں میں بھی ان کی موجودگی برقرار رہے گی۔

انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں موجود لوگ ان کے حقوق کے لیے ہونے والی جدوجہد کو دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو احتجاج کرنے، اپنے مذہبی تشخص کا اظہار کرنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بھارتی سیاسی کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کا بھی ذکر کیا اور ان کے مقدمات کی طرف توجہ دلائی

صفا احمد نے اپنے خطاب میں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تشخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حجاب پہننے والی خواتین اور داڑھی رکھنے والے مردوں کو اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انہوں نے ان احتجاجی مظاہروں کا بھی ذکر کیا جہاں مسلمان اپنے مذہبی جذبات اور شناخت کا اظہار کرتے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں موجود مظاہرین ان کی جدوجہد کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

نیویارک میں ہونے والا یہ احتجاج امریکہ میں بھارتی سیاست اور ہندوتوا نظریے سے متعلق بڑھتی ہوئی بحث کی ایک مثال ہے۔

Read Previous

مکہ معاہدہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاع مضبوط بنانے پر اتفاق

Read Next

استنبول میں فیلڈ مارشل پاکستان عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع کی ملاقات

Leave a Reply