آق پارٹی: سرخروئی کا سفر

تحریر: حماد یونس

آق پارٹی یعنی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے قیام کو 21 برس مکمل ہو گئے۔ 14 اگست 2001 کو قائم ہونے والی اس سیاسی جماعت کی تاریخ کا ہر ورق کامیابیوں سے عبارت ہے۔

کامیابی کا سفر
اس جماعت نے اپنے قیام سے ہی اپنے کامیابی کے سفر کا آغاز کیا اور ایک سال بعد، 2002 میں منعقد ہونے والے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کر کے ترکی میں حکومت قائم کی ، عبداللہ گل صدر اور رجب طیب اردوان وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
دو ہزار چار کے بلدیاتی انتخابات میں بھی آق سب سے زیادہ ،42 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
2007 میں ایک بار پھر آق پارٹی ملک کی مقبول ترین جماعت ثابت ہوئی۔عبداللہ گل دوبارہ صدر اور طیب اردوان وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
2009 کے لوکل الیکشنز میں بھی آق نے کامیابیاں سمیٹیں ۔
2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر آق کے امید وار کامیاب ہوئے، مگر پہلے سے مختلف بات یہ تھی کہ سابقہ وزیر اعظم اور پارٹی کے رہنما رجب طیب اردوان اس بار صدر منتخب ہوئے تھے۔
2015 کے عام انتخابات میں آق دوبارہ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری مگر پہلی بار وہ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ کوئی جماعت بھی چونکہ سادہ اکثریت یا اتحاد کے ذریعے حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی، لہٰذا پانچ ماہ بعد دوبارہ الیکشنز کروائے گئے۔ اس بار آق نے حیرت انگیز طور پر سادہ اکثریت حاصل کی اور پہلے کے مقابلے میں 59 سیٹیں زیادہ حاصل کیں۔آق کے رہنما احمد داؤد اوغلو وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن ایک برس بعد ہی رجب طیب اردوان سے اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ ان کی جگہ بن علی یلدرم ترک وزیر اعظم منتخب ہوئے جو آق پارٹی کے ایک اور رہنما تھے۔
2019 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے نمایاں کامیابی سمیٹی، مگر صرف پانچ سیٹوں کے فرق سے سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی۔چنانچہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی گئی۔
چونکہ 2017 کے آئینی اصلاحات کے ذریعے ترکی میں پارلیمانی نظام کا اختتام ہو گیا تھا،، جس کی جگہ صدارتی نظام نافذ العمل ہوا، لہٰذا اب وہاں وزیر اعظم کا عہدہ آئینی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
دو ہزار اٹھارہ کے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں موجودہ ترک صدر رجب طیب اردوان ہیں ، جبکہ نائب صدر فواد اوکدے ہیں۔
آق پارٹی کی انفرادیت
اس جماعت کو عموماً قدامت پسند مسلمانوں کی جماعت قرار دیا جاتا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے جب عثمانی خلافت کی قبا لپیٹی ، اسلام اور اسلام پسند ترکوں پر پابندیاں اور طرح طرح کی قدغنیں بھی معمول کی بات ہو گئی۔ منظم انداز سے سرکاری نگرانی میں اسلام کو لوگوں کے ذہنوں سے کھرچ کھرچ کر نکالا گیا اور اسلامی عقائد اور شعائر کو قدامت پسندی یا دقیانوسیت قرار دیا گیا۔ اسلام کو عربوں کی میراث قرار دے کر ، ترک قوم پرستی کی تبلیغ کی گئی۔ ایسے حالات میں اسلام کا نام لینے والوں کو ملک دشمن عناصر کے طور پر پیش کیا گیا۔ آق پارٹی ترک روایات اور اسلام کی عظمتِ رفتہ ، دونوں کی امین جماعت ہے اور اس نےاپنے عمل سے بار ہا اسےثابت بھی کیا ہے۔
دوسری جانب آق پارٹی روشن خیالی، انصاف،آزادی اور تعمیر و ترقی کی مظہر اور داعی ہے۔ ہر موقع پر اس نے دہشت گردی اور ظلم و جبر کی مذمت کی ہے۔
آق پارٹی بنیادی طور پر ایک اسلام پسند جماعت ہے۔ اس نے مصطفیٰ کمال اور عصمت انونو کی باقیات کی جانب سے اسلام پر عائد کردہ پابندیوں کو اٹھایا اور اپنے عمل اور پالیسیوں سے ترکی میں اسلام کو ہر ہر طرح سہارا دیا۔
آق کے رہنما عموماً اپنی جماعت کو سیکیولر پارٹی قرار دیتے ہیں، مگر ان کی مسلسل پالیسیاں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ان کا دل اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ مثلاً حجاب ، آیا صوفیہ اور دیگر ایسی مساجد کے حوالے سے پالیسی ، اسلامی شعائر کا خصوصی اہتمام ، تمام پان اسلامک تنظیموں سے خوش گوار تعلقات اور تمام قومی و بین الاقوامی فورمز پر اسلام اور مظلوم مسلمانوں کی وکالت اس ضمن میں اہم اور نمایاں اقدامات ہیں۔ ہاں البتہ یہ بات اپنی جگہ واضح ہے کہ آق پارٹی کسی پر اپنا نظریہ تھوپنے پر یقین نہیں رکھتی، کیونکہ دین میں کوئی جبر نہیں۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا تاریخی پس منظر
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا پس منظر جدو جہد اور آہنی عزم کی داستان ہے۔ اس کا قیام تب ہوا تھا جب ترکیہ پر غالب مذہب بیزار طبقات نے یکے بعد دیگرے تین سیاسی جماعتوں پر اسلام پسندی کا الزام لگا کر کالعدم قرار دیا۔
1980 میں نیشنل سالویشن پارٹی پر پابندی کی گئی اور اس کے اہم رہنماؤں کو پابندِ سلاسل کیا گیا۔ 1990 میں یہ لوگ ایک نئی جماعت ، رفاہ پارٹی کے نام سے سامنے آئے، اور 1995 کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے مخلوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
1997 میں منتخب وزیر اعظم نجم الدین اربکان کو غیر آئینی انداز میں برطرف کرنے کے بعد ان کی رفاہ پارٹی پر پابندی عائد کی گئی تو وہ ورچو پارٹی کے نام سے دوبارہ میدان میں اتر آئے۔مگر اسلام بیزار طبقات نے 2001 میں اس جماعت پر بھی پابندی عائد کر دی اور بد ترین آمریت اور فاشزم کا ثبوت دیا ۔ مگر یہ لوگ کہاں میدان اور اپنا رستہ چھوڑنے والے تھے۔ چنانچہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

Read Previous

ترک ایتھلیٹ یاسمین کین نے یورپی چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ اپنے نام کر لیا

Read Next

استنبول معاہدے کے تحت پانچ مزید اناج سے لدے جہاز یوکرین کی بندرگاہوں سے روانہ

Leave a Reply