افغانستان کے طالبان مخالف گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف سرگرم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی حمایت کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی سکیورٹی صورتحال میں پاکستان اور اس مزاحمتی محاذ کے مفادات ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔
احمد مسعود نے یہ بیان فرانس میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے مسلح گروہوں کی کارروائیوں کا سامنا کر رہا ہے اورافغانستان کی موجودہ صورتحال پورے خطے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے کہا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اب بھی افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا چاہتا ہے تو اسے طالبان مخالف قوتوں کے ساتھ تعاون پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق افغانستان میں ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظام ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
احمد مسعود نے مزید کہا کہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے افغانستان میں دیرپا استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ تمام سیاسی اور نسلی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والا نظام ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ممالک کے لیے بھی سکیورٹی چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند عناصر پاکستانی علاقوں میں حملوں میں ملوث ہیں اور کابل انتظامیہ کو ان کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہیے
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
واضح رہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی بنیاد 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد رکھی گئی تھی۔ اس تنظیم کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں جو افغانستان کے معروف رہنما اور سابق مجاہد کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے ہیں۔ یہ گروپ خود کو طالبان کے خلاف سب سے بڑی منظم مزاحمتی قوت قرار دیتا ہے اور افغانستان میں ایک جامع، نمائندہ اور جمہوری سیاسی نظام کے قیام کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
