Turkiya-Logo-top

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا مینڈیٹ بڑھانے کا مطالبہ

افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر انسانی حقوق کی متعدد عالمی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے کے مینڈیٹ کی مکمل تجدید اور خواتین و لڑکیوں کے حقوق سے متعلق خصوصی رپورٹنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

18 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ خط میں تنظیموں نے انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں خواتین، لڑکیوں، نسلی و مذہبی اقلیتوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر متاثرہ گروہوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

خط میں افغانستان کے لیے آزاد تحقیقاتی میکانزم کو بھی فوری طور پر فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ میکانزم انسانی حقوق کونسل کی قرارداد 60/2 کے تحت اکتوبر 2025 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ افغانستان میں ماضی اور جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جواب دہی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

خط کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ دیکھا گیا ہے۔ تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ احکامات، ہدایات اور قوانین کے ذریعے بنیادی آزادیوں پر پابندیاں بڑھائی گئی ہیں اور جواب دہی کے امکانات محدود ہوئے ہیں۔

خط میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سابق سرکاری عہدیداروں، مظاہرین اور طالبان حکومت کے ناقد سمجھے جانے والے افراد کی مبینہ من مانی گرفتاریوں، طویل حراست، تشدد، بدسلوکی اور جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنظیموں نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں اور کوڑوں اور پھانسیوں سمیت جسمانی سزاؤں کے نفاذ کا بھی ذکر کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتیں، جن میں ہزارہ اور اسماعیلی شیعہ برادریاں بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر پسماندہ طبقات، معذور افراد اور LGBTQI+ افراد بھی امتیازی سلوک اور مخصوص نوعیت کے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی تنظیموں نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال کو خط کا اہم ترین حصہ قرار دیتے ہوئے خصوصی رپورٹنگ جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

خط کے مطابق افغان لڑکیاں اب بھی سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کو روزگار، سرکاری عہدوں اور عوامی زندگی کے متعدد شعبوں تک رسائی میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

خواتین کی نقل و حرکت، لباس اور پارکس، جم اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

خط میں 2026 میں جاری کیے گئے بعض نئے قوانین اور احکامات پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تنظیموں کے مطابق نئے قانونِ خطباء، ضابطۂ فوجداری کارروائی اور میاں بیوی کی عدالتی علیحدگی سے متعلق قوانین خواتین کے حقوق اور قانونی تحفظات کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کرتے ہیں۔

خط میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور دیگر ماہرین کی جانب سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صورتحال کو صنفی بنیاد پر ظلم و ستم اور "صنفی امتیاز پر مبنی نظام” قرار دیے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

مشترکہ خط میں افغانستان کے انسانی اور معاشی بحران کے ساتھ افغان مہاجرین اور تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنظیموں کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی صرف پاکستان اور ایران سے نہیں ہو رہی بلکہ ترکیہ اور بعض یورپی ممالک سے بھی افغان شہریوں کو واپس بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں واپس بھیجے جانے والے افراد کی حفاظتی ضروریات کا مناسب جائزہ نہیں لیا جاتا، جس سے خواتین، سابق افغان حکومتی عہدیداروں، سابق غیر ملکی افواج سے وابستہ افراد، LGBTQI+ افراد، اقلیتی برادریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو واپسی کے بعد خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

خط میں طالبان کے دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تنظیموں نے کہا ہے کہ سرحد پار کشیدگی کے نتیجے میں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ طبی مراکز سمیت شہری تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

خط میں بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام اور مبینہ خلاف ورزیوں کی مکمل، آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے انسانی حقوق کونسل سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے کے مینڈیٹ کی مکمل تجدید کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی نمائندے کی نگرانی، تحقیقات اور سفارشات افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے عالمی برادری کے لیے اہم ذریعہ ہیں۔

تنظیموں نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے متعلق خصوصی رپورٹنگ اور توسیعی تعاملی مکالمے کو بھی جاری رکھنے کی اپیل کی ہے تاکہ افغان خواتین، بالخصوص خواتین انسانی حقوق کے کارکن، انسانی حقوق کونسل کی بحث میں براہ راست شریک ہو سکیں۔

اس کے علاوہ نسلی، مذہبی اور لسانی طور پر پسماندہ گروہوں اور برادریوں کی صورتحال پر الگ رپورٹ اور اس کے بعد تعاملی مکالمہ منعقد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خط میں انسانی حقوق کونسل کی قرارداد 60/2 کے تحت قائم کیے گئے افغانستان کے لیے آزاد تحقیقاتی میکانزم (IIMA) کو فوری طور پر مکمل طور پر فعال کرنے اور اسے مناسب اور مستقل وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تنظیموں کے مطابق جواب دہی کا عمل جامع، کثیر الجہتی، صنفی حساس اور متاثرین پر مرکوز ہونا چاہیے۔ انہوں نے IIMA سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کام میں خواتین اور بچوں کے حقوق کو بھی شامل کرے اور متاثرین، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ محفوظ اور بامعنی رابطہ برقرار رکھے۔

خط میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے لیے حمایت جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ کو فعال کرنے میں ہونے والی پیش رفت پر رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے 64ویں اجلاس میں پیش کی جائے اور اس معاملے پر خصوصی نمائندے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی شرکت سے توسیعی تعاملی مکالمہ منعقد کیا جائے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مسلسل بین الاقوامی نگرانی اس وقت مزید اہم ہے جب طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی اور معاشی رابطے بڑھ رہے ہیں۔

تنظیموں نے انسانی حقوق کونسل اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین، لڑکیوں اور دیگر متاثرہ گروہوں کے حقوق کے تحفظ، انسانی حقوق کی نگرانی اور جواب دہی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں۔

Read Previous

کوہاٹ اور ہنگو میں زمینی آپریشن کے بعد سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں، پاکستان کا 37 د-ہشت گرد ہلاک کرنے کی تصدیق

Leave a Reply