حزبِ اسلامی کے گلبدین حکمت یار کا طالبان کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ

افغان مجاہدین کے رہنما اور حزبِ اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار نے طالبان کے ساتھ اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔

کابل میں پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکمت یار نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت اور تعاون کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان اور حزب اسلامی آپس میں مل جاتے ہیں تو وہ ایک ایسی قوت بن جائیں گے جس کے خلاف کوئی محاذ آرائی نہیں کر سکے گا اور افغانستان کے موجودہ بحران پر بھی جلد قابو پا لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت مکمل ہوتی ہے اس کے فوری بعد حزبِ اسلامی طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دے گی تاہم اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغان حکومت کمزور اور منقسم ہے جبکہ طالبان اور حزب اسلامی کی اقدار اور نظریات یکساں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ افغانستان میں اس کی موجودگی صرف مالی اور جانی وسائل کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

گلبدین حکمت یار کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ جلد طے پا جائے تاکہ امریکہ کو یہاں سے نکلنے کا محفوظ راستہ مل سکے۔

ادھر افغان حکومت مذاکرات کو نومبر تک تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے تاکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات مکمل ہو جائیں اور پھر نئی انتظامیہ کے ساتھ نئے معاہدے طے کئے جا سکیں۔

حکمت یار نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کی بنا پر بھارت چاہتا ہے کہ مذاکرات کا عمل جلد مکمل نہ ہو اسی لئے وہ مقامی مسلح جتھوں کے ساتھ مل کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین اور پاکستان کا یکساں موقف ہے کہ مذاکرات جلد مکمل کئے جائیں تاکہ افغانستان سے بھارت کی موجودگی اور اس کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔

Read Previous

وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن سے خطاب کریں گے

Read Next

ترکی وبا سے ہونے والے معاشی نقصان کی بحالی کی طرف گامزن؛ ایردوان

Leave a Reply