ozIstanbul

افغانستان:صوبہ ننگرہار میں بم دھماکہ 9 بچے جاں بحق، 4 زخمی

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں بم دھماکے سے 9 بچے جاں بحق اور دیگر 4 زخمی ہوگئے۔

ننگرہار میں طالبان کے گورنر نے بتایا کہ پاکستان کی سرحد کے قریبی مشرقی صوبے کے علاقے میں ایک بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔

گورنر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکا ضلع لالوپار میں اس وقت ہوا جب کھانے کی اشیا والی ایک ریڑھی دھماکا خیز موٹرشیل سے ٹکرائی۔

دھماکے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ننگرہار کو افغانستان میں طالبان کے مخالف گروپ داعش کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں طالبان کی جانب سے 15 اگست کو حکومت سنبھالنے کے بعد افغانستان کی نئی حکومت کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

داعش افغانستان میں 2014 سے موجود ہے اور کئی بدترین حملے کرچکی ہے، جس میں ہزارہ برادری پر ہونے والے بدترین دہشت گردی کے واقعات بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں دھماکا خیز مائنز اور دیگر بارودی مواد پھیلا ہوا ہے جہاں کئی دہائیوں سے خانہ جنگی جاری ہے جبکہ بارودی مواد اور ان مائنز کے دھماکوں سے اکثر بچے متاثر ہوتے ہیں۔

گزشتہ ماہ دارالحکومت کابل میں ضلع دشت برچی کے قریب دو الگ الگ بم دھماکوں میں دو افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل نومبر میں دشت برچی میں ہے اسی طرح ایک منی بس میں بم دھماکا ہوا تھا اور اس دھماکے میں 2 افرادجاں بحق اور 5 بھائی زخمی ہوگئے تھے تاہم اس دھماکے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔

افغانستان میں داعش نے 15 اکتوبر کو قندھار کی مسجد میں خودکش حملہ کیا تھا اور یہاں 60 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

قندھار خودکش حملے سے ایک ہفتہ قبل ہی شمالی صوبے قندوز میں بھی ایک مسجد میں دھماکا ہوا تھا اور 60 سے زائد نمازی جاں بحق ہوگئے تھے۔

داعش نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

جس کے بعد طالبان نے افغانستان میں موجود داعش کے ٹھکانوں پر کارروائی کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ داعش کو ختم کرنے کے لیے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں بھرپور کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

طالبان کے صوبائی پولیس سربراہ عبدالغفار محمدی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کے خلاف کارروائی طالبان کے مقامی گروپ نے شروع کی اور یہ کارروائی قندھار کے 4 اضلاع میں شروع کردی گئی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘داعش کے 4 جنگجو مارے گئے اور 10 گرفتار ہوئے جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک نے گھر کے اندر خود کو اڑا دیا تھا’۔

طالبان کی خفیہ ایجنسی کے ایک رکن نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا تھا کہ آپریشن کے دوران 3 عام شہری بھی مارے گئے۔

یاد رہے کہ طالبان نے دو دہائیوں بعد گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان میں دوبارہ حکومت حاصل کی تھی اور اس سے قبل امریکا سمیت غیرملکی فوج کا انخلا ہوا تھا اور اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد کابل میں سابقہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

امریکا نے 2001 میں طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے افغانستان میں مداخلت کی تھی اور دو دہائیوں بعد فروری 2020 کے آخر میں دوحہ میں معاہدے کے بعد واپسی کا اعلان کیا تھا۔

طالبان نے 1996 میں اس وقت کے شمالی اتحاد کے خلاف لڑائی کے بعد افغانستان پر حکومت بنائی تھی لیکن 2001 میں امریکی حملے کے ساتھ ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

پچھلا پڑھیں

سعودیہ میں برازیل کے روایتی رقص سامبا کی ویڈیو وائرل،تحقیقات کا آغاز

اگلا پڑھیں

ترکی کی معروف برسلاری اسکالر شپ 2022 میں رجسٹریشن شروع گئی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے