fbpx
ozIstanbul

اسرائیل جیسی ریاستوں کو لگام ڈالنے کیلئے ورلڈ آرڈر میں تبدیلی ناگزیر ہے،بین الاقوامی سیمینار سے مقررین کا خطاب

‘اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی حالتِ زار’ کے موضوع پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد اوراستنبول کی آئی ایل کے ای فاونڈیشن نے مشترکہ ویبینار کیا ، مقررین میں پاکستان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امورکے چیئرمین مشاہد حسین سید، آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمن ، امریکا میں مقیم فلسطینی مصنف اور صحافی ڈاکٹر رمزی بارود اور ترکی میں مقیم فلسطینی صحافی ڈاکٹر علی ابوازیق شامل تھے، ویبینار کو استنبول سے ڈاکٹر احسن شفیق نے ماڈریٹ کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی گردان غزہ کے ملبے تلے دفن ہو گئی۔
ورلڈ آرڈر میں تبدیلی اسرائیل جیسی ریاستوں کو لگام ڈالنے اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے کوحل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ موجودہ دور کاغیر منصفانہ ورلڈ آرڈر ہی دنیا میں عدم استحکام کا سبب ہے جس کی بنیاد ہی سب سے زیادہ طاقت ور کی بقا کا اصول ہے۔

ویبنارمیں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے مابین بے انتہا مماثلت دیکھتا ہے۔ دونوں مقبوضہ علاقے ہیں، دونوں کو حق خودارادیت دینے سے انکار کیا گیا ہے ، دونوں اسرائیل میں بنیامن نیتن یاہو اور ہندوستان میں نریندرا مودی کی فاشسٹ حکومتوں کے قبضے میں ہیں جو نسل پرستانہ بھی ہیں اور اسلامو فوبیا کا شکار بھی ۔ اس کے علاوہ دونوں مقبوضہ علاقوں میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مقررین نے کہا کہ اسرائیل جیسی فرقہ وارانہ ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے مسلمان ممالک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اس کے بجائے زیادہ بہتر ہوگا کہ مسلم ممالک امریکہ پر سفارتی دباوبڑھائیں جس کی رائے کو اسرائیل زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان ، ترکی اور سعودی عرب جیسے ہم خیال ممالک کو ایران، انڈونیشیا اور چین جیسے غیر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر تعاون کرنا چاہیے جو فلسطین کا ایک بہت بڑا حامی ہے۔ اس کے لیے مسلم ممالک کو او آئی سی کے باہر مختلف بلاکس تشکیل دینے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

پچھلا پڑھیں

دنیا میں امن و استحکام صرف اسلاموفوبیا کے خاتمے سے ہی ممکن ہے، صدر ایردوان

اگلا پڑھیں

پاک فوج کا افغانستان سے فائرنگ کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے