قرآنِ مجید کی تعلیم اور تلاوت کو بصارت سے محروم افراد کے لیے آسان بنانے کے لیے ترکیہ دیانت فاؤنڈیشن نے بریل رسم الخط میں قرآنِ مجید کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ترکیہ کے 20 شہروں میں 250 نابینا طلبہ کو قرآنِ مجید کے نسخے فراہم کیے جا رہے ہیں، تاکہ وہ ابھرے ہوئے حروف کو انگلیوں سے محسوس کرکے خود قرآنِ پاک پڑھ سکیں۔
اس منصوبے کے تحت 15 اکتوبر کو انقرہ کے علاقے ینی محلے میں واقع کانی کاراجا نابینا طلبہ کے انادولو امام خطیب ہائی اسکول کا دورہ کیا گیا۔ دیانت فاؤنڈیشن کے جنرل منیجر ایزانی توران نے طلبہ سے ملاقات کی اور انہیں بریل رسم الخط میں تیار کردہ قرآنِ مجید کے نسخے پیش کیے۔ اس موقع پر طلبہ نے قرآنِ مجید کی تلاوت بھی کی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ایزانی توران نے کہا کہ قرآنِ مجید کی خدمت اور اسے مختلف طبقات تک پہنچانے کی کوششوں میں شامل ہونا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کے ’’میرا تحفہ قرآن ہو‘‘ منصوبے کے تحت اب تک تقریباً 30 لاکھ قرآنِ مجید تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ نابینا افراد کے لیے بریل قرآن کی تیاری کا اقدام ان کی ضروریات اور درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

بریل قرآنِ مجید کے نسخے مختلف اجزا میں تیار کیے گئے ہیں، تاکہ طلبہ کے لیے انہیں اٹھانا، ساتھ لے جانا اور مطالعہ کرنا آسان ہو۔ اسکول کے طالب علم حمزہ محمد واد النیدہ نے بتایا کہ قرآنِ مجید کو الگ الگ اجزا میں تقسیم کرنے سے اس کا استعمال آسان ہو گیا ہے، جبکہ ایک اور طالب علم بلال طحہ اردیچ نے اس سہولت پر فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
دیانت فاؤنڈیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد نابینا افراد کو قرآنِ مجید پڑھنے کے لیے زیادہ خودمختار بنانا اور ان کی دینی تعلیم تک رسائی بہتر کرنا ہے۔ بریل رسم الخط میں قرآن کی دستیابی سے بصارت سے محروم طلبہ کو باقاعدہ مطالعے، تلاوت کی مشق اور دینی تعلیم کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔
