پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سات اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا مکمل متن سامنے آ گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور باقی ممالک حملے کا نشانہ بننے والے ملک کو فوری معاونت فراہم کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے 20 اکتوبر کو اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ترک حکومت نے معاہدے کا متن منگل کو پارلیمان میں پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 شقوں پر مشتمل یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع، فوجی تربیت، دفاعی سازوسامان کی تیاری، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سلامتی سے متعلق تعاون کے لیے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیتا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
معاہدے میں کسی مخصوص ملک یا خطے کو خطرے کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔ اس میں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون، ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت، تسلیم شدہ سرحدوں کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
پہلی شق: تینوں ممالک کی خودمختاری اور سرحدوں کا تحفظ
معاہدے کی پہلی شق کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے تعاون کریں گے۔
اگر کسی رکن ملک کی خودمختاری، سرحدوں یا علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو تینوں ممالک اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔
اس شق میں صرف مسلح حملے ہی نہیں بلکہ کسی ملک کی سلامتی یا سرحدوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی باہمی تعاون کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری شق: ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا
معاہدے کی دوسری شق مشترکہ دفاع سے متعلق ہے۔اس کے مطابق اگر کسی رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔
اگر پاکستان، ترکیہ یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کو کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملے یا فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو باقی ممالک فوری طور پر اس کی مدد کریں گے۔
تاہم معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا فیصلہ متاثرہ ملک کی ضروریات کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
اس دوران ہر ملک اپنے دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کے مطابق مدد فراہم کرے گا، جس میں فوجی وسائل اور صلاحیتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
یہ تعاون اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاع کے مطابق ہوگا۔اس لیے معاہدے کے تحت فوری معاونت کی ذمہ داری تو موجود ہے، لیکن ہر حملے کے جواب میں تینوں ممالک کی جانب سے لازمی اور خودکار فوجی کارروائی کی شرط نہیں رکھی گئی۔
تیسری شق: دفاع، سلامتی اور مسلح افواج کے درمیان تعاون
تیسری شق کے مطابق تینوں ممالک دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے۔
اس مقصد کے لیے مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جائے گا اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے لیے باہمی اتفاق سے مختلف سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔
چوتھی شق: بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر مشاورت
چوتھی شق میں طے پایا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب بین الاقوامی سلامتی سے متعلق معاملات پر باقاعدہ مشاورت کریں گے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تینوں ممالک مشترکہ جائزوں کی بنیاد پر اپنی قومی سلامتی اور اہم مفادات کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی اقدامات تیار کریں گے۔
اس تعاون کا مقصد قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی نشاندہی، ان کے خاتمے اور مشترکہ حکمت عملی کی تیاری ہوگا۔
پانچویں شق: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون
پانچویں شق کے مطابق تینوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو متاثر کرنے والی دہشت گردی کی تمام صورتوں کے خلاف موجودہ تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔
اس میں عملی کارروائیوں کی سطح پر باہمی تعاون اور مشترکہ کوششیں بھی شامل ہوں گی۔
چھٹی شق: مشترکہ فوجی مشقیں اور اہلکاروں کا تبادلہ
چھٹی شق کے مطابق جنگ اور امن دونوں حالات میں تینوں ممالک اپنے دفاعی اداروں کے اہلکاروں کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
اس کے ساتھ مشترکہ تربیتی پروگرام، فوجی مشقیں، اہلکاروں کی تعیناتی اور دیگر دفاعی سرگرمیاں بھی انجام دی جائیں گی۔
ان اقدامات کا مقصد تینوں ممالک کی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی استعداد بڑھانا ہے۔
ساتویں شق: دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور مشترکہ پیداوار
ساتویں شق میں دفاعی صنعت سے متعلق تعاون کی تفصیلات دی گئی ہیں۔اس کے مطابق تینوں ممالک باہمی اتفاق سے دفاعی اداروں کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے، نئی ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی اور دفاعی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار کو فروغ دیں گے۔
اس شق میں پانچ اہم شعبے شامل ہیں:
دفاعی مصنوعات کی مشترکہ تیاری کی حوصلہ افزائی۔
خصوصی مہارت کی حامل ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق، ترقی اور نئی اختراعات۔
ایک دوسرے کے ماہرین کے ذریعے دفاعی صنعت سے وابستہ اہلکاروں کی تربیت اور مقامی فوجی صنعت کی معاونت۔
دفاعی تحقیق، ترقی اور اختراعات سے متعلق تجربات اور حاصل شدہ اسباق کا تبادلہ۔
باہمی اتفاق سے دفاعی صنعت کے دیگر شعبوں میں تعاون۔
آٹھویں شق: مشترکہ سیاسی و دفاعی کمیٹی کیسے کام کرے گی؟
معاہدے کی آٹھویں شق کے مطابق تینوں بنیادی رکن ممالک ایک اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کریں گے۔
اس کمیٹی میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہوں گے۔
کمیٹی مشترکہ دفاع کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھائے گی اور معاہدے پر عمل درآمد میں سامنے آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
کمیٹی کے اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوں گے اور تینوں ممالک باری باری ان کی میزبانی کریں گے۔
اگر ضروری سمجھا گیا تو تینوں ممالک کے سربراہان بھی سال میں ایک مرتبہ ملاقات کر سکیں گے۔
کمیٹی ضرورت پڑنے پر ذیلی کمیٹیاں بھی قائم کر سکے گی۔ معاہدے کے مختلف شعبوں پر عمل درآمد کے لیے اضافی معاہدوں یا طریقہ کار پر بھی مذاکرات کیے جا سکیں گے۔
کیا دیگر ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہو سکیں گے؟
آٹھویں شق کے مطابق نئے ممالک کی شمولیت کے طریقہ کار اور اصولوں کا تعین بھی یہی کمیٹی کرے گی۔
تاہم اس کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب، یعنی تینوں بنیادی رکن ممالک کا اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔
معاہدے کے متن میں کسی نئے ملک کی شمولیت کو پہلے سے منظور شدہ قرار نہیں دیا گیا۔
مشترکہ سیکریٹریٹ کہاں قائم ہوگا؟
معاہدے کے مطابق کمیٹی کا مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
سیکریٹریٹ سعودی حکومت کے ساتھ اپنے مرکزی دفتر سے متعلق معاہدہ کرے گا، جبکہ اس کے انتظامی ڈھانچے، طریقہ کار اور قیام کی تفصیلات تینوں بنیادی رکن ممالک کے اتفاقِ رائے سے طے ہوں گی۔
پہلا سیکریٹری جنرل کس ملک سے ہوگا؟
معاہدے کے مطابق سیکریٹریٹ کا سربراہ ایک سیکریٹری جنرل ہوگا، جس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔یہ عہدہ تینوں بنیادی رکن ممالک کو باری باری دیا جائے گا۔
معاہدے میں واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہوگا( جس کا تقرر کیا گیا ہے)
آٹھویں شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی کمیٹی کا قیام تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود فوجی تعاون کی کمیٹیوں کے کام کو متاثر نہیں کرے گا۔
نویں شق: خفیہ معلومات کا تبادلہ
نویں شق کے مطابق تینوں ممالک انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔
اس مقصد کے لیے باہمی اتفاق سے طے کیے گئے محفوظ ذرائع کے ذریعے خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
معلومات کے تبادلے میں سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کے اصولوں کی پابندی ضروری ہوگی۔
دسویں شق: جنگ اور ہنگامی حالات میں اسلحہ اور دیگر سامان کی فراہمی
دسویں شق میں تینوں ممالک کے درمیان لاجسٹک تعاون کی تفصیلات شامل ہیں۔اس کے مطابق جنگ، امن اور دیگر ہنگامی حالات میں رکن ممالک ایک دوسرے کو ضروری سامان اور سہولتیں فراہم کریں گے۔
اس میں اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن، فاضل پرزے اور دیگر دفاعی سازوسامان شامل ہے۔تاہم یہ تعاون متعلقہ سہولتوں کی دستیابی اور باہمی مطابقت سے مشروط ہوگا۔
گیارہویں شق: معاہدے کی قانونی حیثیت
گیارہویں شق کے مطابق تینوں ممالک بین الاقوامی قانون اور اپنے متعلقہ ملکی قوانین کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس معاہدے کو اس کی شقوں پر عمل درآمد کی قانونی بنیاد تسلیم کریں گے۔
اگر معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مزید قانونی اقدامات ضروری ہوئے تو متعلقہ ممالک ان کی تجویز بھی پیش کریں گے۔
بارہویں شق: پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہدوں کا کیا ہوگا؟
بارہویں شق کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل حقوق اور ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرے گا۔
اس کا مطلب ہے کہ نئے دفاعی تعاون کے باوجود پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔یہ شق خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے۔
تیرہویں شق: خفیہ دفاعی معلومات کی حفاظت
تیرہویں شق کے مطابق تینوں ممالک اس معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھنے کے پابند ہوں گے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ایسی معلومات کسی ایسے ملک، کمپنی یا شخص کو فراہم نہیں کی جا سکیں گی جو معاہدے کا فریق نہیں ہے۔
خفیہ معلومات تک رسائی صرف ان افراد کو دی جائے گی جنھیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ان کی ضرورت ہو اور جن کے پاس متعلقہ سطح کی سکیورٹی کلیئرنس موجود ہو۔اس سلسلے میں تینوں ممالک اپنے قومی قوانین کی پابندی بھی کریں گے۔
چودہویں شق: اختلاف پیدا ہونے پر فیصلہ کیسے ہوگا؟
چودہویں شق کے مطابق اگر معاہدے کی کسی شق کی تشریح یا اس پر عمل درآمد کے حوالے سے رکن ممالک میں اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اسے باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن انداز میں حل کیا جائے گا۔
پندرہویں شق: کیا معاہدے میں تبدیلی کی جا سکے گی؟
پندرہویں شق کے مطابق معاہدے میں ترامیم کی جا سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے تینوں بنیادی رکن ممالک کے درمیان مشاورت اور متفقہ منظوری ضروری ہوگی۔
اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایک ملک دوسرے بنیادی رکن ممالک کی رضامندی کے بغیر معاہدے کی شرائط تبدیل نہیں کر سکے گا۔
سولہویں شق: معاہدہ کب نافذ ہوگا اور اس سے علیحدگی کی شرائط کیا ہیں؟
سولہویں شق کے مطابق تینوں ممالک اپنے متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت معاہدے کی توثیق کریں گے۔
معاہدہ اس تاریخ سے نافذ ہوگا جب توثیق کی آخری دستاویز اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی جائے گی۔
معاہدے کی مدت غیر معینہ رکھی گئی ہے، یعنی اس کے خاتمے کی کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔تاہم کوئی بھی رکن ملک معاہدے کے نافذ ہونے کے ابتدائی دس سال کے دوران اس سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکے گا۔
دس سال مکمل ہونے کے بعد اگر کوئی ملک الگ ہونا چاہے تو اسے کم از کم تین ماہ پہلے سفارتی ذرائع سے دیگر رکن ممالک کو تحریری اطلاع دینا ہوگی۔
معاہدے سے الگ ہونے کے بعد کیا ذمہ داریاں ختم ہو جائیں گی؟
سولہویں شق کے مطابق کسی ملک کی علیحدگی یا معاہدے کے خاتمے سے پہلے سے طے شدہ اور جاری مشترکہ منصوبے یا سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی۔
اس کے علاوہ خفیہ معلومات اور دستاویزات کے تحفظ اور انھیں افشا ہونے سے روکنے کی ذمہ داریاں بھی معاہدے کے خاتمے یا علیحدگی کے بعد برقرار رہیں گی۔
معاہدے کی اصل زبان کون سی ہوگی؟
معاہدے کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ اسے ترکی، عربی اور انگریزی زبانوں میں تین اصل نسخوں کی صورت میں تیار کیا گیا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تینوں زبانوں کے متن کو یکساں مستند حیثیت حاصل ہوگی۔تاہم اگر کسی شق کی تشریح میں مختلف زبانوں کے متن کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے تو انگریزی متن کو ترجیح دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق یہ معاہدہ جمعہ سات اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔
