Turkiya-Logo-top

ترکیہ کے شہر ازمیر میں صدیوں پرانی شادی کی روایات زندہ، مہندی اور روایتی رقص توجہ کا مرکز

ترکیہ کے شہر ازمیر میں شادی کی قدیم روایات اور مغربی اناطولیہ کی تاریخی ’ایفے‘ ثقافت کو ایک منفرد تقریب کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا گیا، جہاں مہندی، روایتی عروسی ملبوسات، موسیقی اور لوک رقص نے شرکا کی توجہ حاصل کرلی۔ ’ایفے لوگوں کی شادی‘ کے نام سے یہ ثقافتی تقریب ازمیر کے اودیمش ضلع میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد نسلوں سے چلی آنے والی مقامی شادی کی رسومات کو محفوظ کرنا اور نئی نسل سے متعارف کرانا تھا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تقریب کا انعقاد تاریخی چاکر آغا مینشن میں کیا گیا، جو عثمانی دور کے فن تعمیر اور خطے کی ثقافتی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تقریب میں اودیمش کے خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہونے والی شادی کی مختلف رسومات کو عملی طور پر پیش کیا گیا، جبکہ روایتی عروسی ملبوسات کی نمائش بھی کی گئی جن پر باریک کڑھائی اور مقامی دستکاری نمایاں تھی۔

پاکستانی ناظرین کے لیے اس تقریب کا دلچسپ پہلو مہندی کی رسم ہے۔ پاکستان کی طرح ترکیہ میں بھی مہندی شادی سے قبل کی ایک اہم روایت رہی ہے۔ تقریب میں روایتی مہندی کی رسم پیش کی گئی، جس کے ذریعے دلہن کی شادی سے قبل اپنے گھر اور خاندان سے جذباتی وابستگی اور زندگی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کی کیفیت کو اجاگر کیا گیا۔

تقریب میں ’زیبیک‘ نامی روایتی لوک رقص بھی پیش کیا گیا۔ یہ رقص مغربی اناطولیہ کی تاریخی ’ایفے‘ جنگجو ثقافت سے وابستہ ہے اور خطے کی بہادری، وقار اور ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ معروف ترک لوک گلوکارہ بیدیا آکارتُرک نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جبکہ ازمیر اسٹیٹ ٹرکش ورلڈ ڈانس اینڈ میوزک اینسمبل نے اودیمش کے روایتی موسیقی کے رنگ پیش کیے۔

ازمیر کے گورنر سلیمان البان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد خطے کے آباؤ اجداد کی ثقافتی یادوں اور روایات کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اودیمش کی قدرتی، تاریخی اور ثقافتی خوبصورتی کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تقریب کی تیاری محض چند دنوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اودیمش کی شادی کی روایات اور ’ایفے‘ ثقافت پر تقریباً ایک سال تک تحقیق اور دستاویزی کام کیا گیا۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی گئی۔ اس ثقافتی تقریب نے ایک بار پھر دکھایا کہ جدید دور میں بھی ترکیہ کے مختلف علاقوں میں صدیوں پرانی شادی کی رسومات، روایتی لباس، موسیقی اور لوک ثقافت کو محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

Read Previous

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، 20 گھنٹے بعد سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل، سکیورٹی فورسز نے 8 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا

Read Next

اے آئی کی دوڑ پر خطرے کی گھنٹیاں، ماہرین نے ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

Leave a Reply