مصنوعی ذہانت اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اے آئی لیبارٹریز کے اندر سے ایسے خدشات سامنے آئے ہیں کہ مستقبل کے طاقتور نظاموں کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینتھروپک کے ایک محقق نے کمپنی چھوڑتے ہوئے خبردار کیا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار ممکنہ طور پر انسانی وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ کچھ دیگر ماہرین نے بھی جدید اے آئی نظاموں کے ممکنہ نقصانات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اے آئی کی دنیا کی بڑی کمپنیوں، جن میں اینتھروپک، اوپن اے آئی، گوگل ڈیپ مائنڈ، مائیکروسافٹ اور ایکس اے آئی شامل ہیں، کے سربراہان نے بھی ترقی کی رفتار میں احتیاط اور حفاظتی اقدامات بڑھانے پر زور دیا ہے۔
یہ بحث اس وقت مزید تیز ہوئی جب اوپن اے آئی نے اپنا نیا ماڈل متعارف کرایا۔ کمپنی کے مطابق جیسے جیسے اے آئی نظام زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں، ان کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ اے آئی ماڈلز نے آزمائشی ماحول میں ایسے اقدامات کیے جنہوں نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کیا، جن میں کمپیوٹر نظاموں تک غیر مجاز رسائی کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تاہم دوسری جانب بعض سیاست دان اور سرمایہ کار اے آئی کی ترقی کو روکنے کے بجائے اسے جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت معاشی ترقی، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے درمیان بنیادی سوال یہی ہے کہ دنیا اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے درمیان توازن کیسے قائم کرے گی۔
