ایک خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را، افغانستان میں موجود بعض عناصر اور پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان رابطوں کا ایک مبینہ نیٹ ورک موجود ہے، جس کے ذریعے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حملوں کے لیے تربیت، مالی معاونت اور پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کے درمیان رابطوں پر مشتمل ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان میں حملوں کے لیے جنگجوؤں کو سہولت فراہم کرنا اور مختلف گروہوں کے درمیان تعاون کو بڑھانا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتا ہے۔ اسلام آباد نے مختلف سفارتی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا اور اس حوالے سے دستاویزات بھی پیش کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ رابطے 2025 کے بعد مزید منظم ہوئے، جبکہ افغانستان میں موجود بعض تربیتی مراکز کو اس سلسلے میں استعمال کیا گیا۔
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2026 میں قندھار سمیت مختلف مقامات پر عسکریت پسند گروہوں کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، جن میں پاکستان کے اندر کارروائیوں، مالی معاونت اور وسائل کی فراہمی سے متعلق بات چیت کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض کارروائیوں میں ایک گروہ ذمہ داری قبول کرتا ہے، جبکہ عملی طور پر دیگر گروہوں کے جنگجوؤں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ پاکستانی حکام نے اس حوالے سے بعض حملوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔
دستاویز میں القاعدہ برصغیر سے وابستہ عناصر کے ممکنہ کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق بعض گروہوں کے درمیان رابطے، مالی مدد اور لاجسٹک سہولت کاری کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہیں۔
