Turkiya-Logo-top

"یہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں”، حوثی حملے میں پاکستانی شہریوں کے موت پر وزارت خارجہ کا ردعمل

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق واقعے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک پاکستانی زخمی ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کے افسوسناک واقعے کی اطلاع گہری تشویش کے ساتھ ملی۔ انہوں نے جاں بحق پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی شہری کے لیے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کے حملے بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی، بحری سلامتی اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان واقعے اور اس کے حالات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انہوں نے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری رابطہ اور رابطہ کاری کرے۔ سفارتخانے کو جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے گا۔

بحیرۂ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے اور یہاں تجارتی جہازوں کو درپیش سکیورٹی خطرات خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان نے تجارتی جہاز رانی کے تحفظ، بحری سلامتی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

Read Previous

استنبول میں 400 سال پرانا عثمانی ساز سازی کا فن آج بھی زندہ

Read Next

پاکستان کو ہیلتھ ٹورزم کا مرکز بنانے کا منصوبہ، پانچ سال میں 10 ارب ڈالر آمدنی کا ہدف

Leave a Reply