A worker hammers a cymbal at a workshop in Istanbul on July 30, 2026 . First used by Ottoman military "mehter” bands to frighten and demoralise the enemy, cymbals were a useful tool for an empire on the warpath. But it would take the skill of an 17th-century Armenian alchemist called Avedis Zildjian to transform them into a percussion instrument whose exotic sound would first captivate Europe’s classical composers and then shape the world of jazz. (Photo by Ozan KOSE / AFP)
ترکی کے شہر استنبول میں عثمانی دور سے چلی آنے والی تقریباً 400 سال پرانی جھانجریں (Cymbals) بنانے کی روایت آج بھی اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔ ماہر کاریگر کانسی کی جھانجریں جدید مشینوں کی بجائے روایتی طریقوں سے ہاتھ سے تیار کرتے ہیں، جنہیں دنیا بھر کے موسیقار، خصوصاً جاز موسیقار، ان کی منفرد آواز اور دستکاری کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔

اس روایت کی تاریخ عثمانی سلطنت تک پہنچتی ہے، جہاں جھانجریں فوجی موسیقی کے مشہور مہتر بینڈز کا حصہ تھیں۔ 1623 میں آرمینیائی دھات ساز اویدیس زِلجیان نے دھاتوں کا ایک خاص مرکب اور تیاری کا منفرد طریقہ متعارف کرایا، جس سے جھانجریں زیادہ مضبوط اور بہتر آواز والی بنیں۔ اس کامیابی نے اس ساز کو عثمانی دربار سے یورپ کی کلاسیکی موسیقی اور بعد ازاں جاز کی دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

استنبول کے موجودہ کاریگر آج بھی تانبے اور ٹِن کے مرکب سے جھانجریں تیار کرتے ہیں، جبکہ اس میں شامل ایک خاص جزو کا راز نسلوں سے محفوظ چلا آ رہا ہے۔ دھات کو بھٹی میں پگھلانے، سانچوں میں ڈھالنے، بار بار گرم کرنے اور رول کرنے کے بعد جھانجری کو ہاتھ سے ہتھوڑے مار کر مطلوبہ آواز دی جاتی ہے۔ ماہر کاریگروں کے مطابق ہتھوڑے کی ہر ضرب اہم ہوتی ہے اور اسی عمل سے ہر جھانجری کی آواز دوسرے سے مختلف بنتی ہے۔

یہی انفرادیت استنبول کی ہاتھ سے تیار کردہ جھانجریوں کو آج بھی عالمی موسیقی میں خاص مقام دیتی ہے۔ ایک ہی سیریز اور وزن کی دو جھانجریاں بھی بالکل ایک جیسی آواز نہیں دیتیں، کیونکہ ہر ساز کاریگر کے ہاتھ سے الگ انداز میں تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے جاز موسیقار ایسی جھانجریوں کو صرف ایک ساز نہیں بلکہ اپنی منفرد آواز کا حصہ سمجھتے ہیں۔

جدید دور میں جب زیادہ تر موسیقی کے آلات بڑے پیمانے پر مشینی طریقوں سے تیار کیے جاتے ہیں، استنبول کے چند کاریگر اب بھی اس قدیم فن کو روایتی انداز میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یوں عثمانی دور کی یہ دستکاری نہ صرف ترکی کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے بلکہ آج بھی عالمی موسیقی میں اپنی منفرد آواز کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔
