نئی دہلی میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرے کی قیادت بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کی جبکہ شرکاء نے ریاست کا درجہ بحال کرنے اور حکومت سے اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا
احتجاج کے دوران مظاہرین نے نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پولیس نے احتجاجی مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا انہوں نے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی، عوام کے آئینی حقوق اور وقار کی واپسی کی جدوجہد ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو تقریباً سات سال مکمل ہو چکے ہیں اس فیصلے کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی تھی ریاست کا درجہ واپس لے لیا گیا تھا اور علاقے کو دو وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ مناسب وقت آنے پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے گا تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی ٹائم لائن یا اعلان سامنے نہیں آیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
عمر عبداللہ اور ان کی جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ حکومت کو انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے کے مطابق جلد از جلد ریاستی حیثیت بحال کرنی چاہیے
بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے نائب وزیرِ اعلیٰ سریندر چودھری نے بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اپنے آئینی مطالبے کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا
