ترکیہ کی وزارتِ صحت نے 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کی عادت سے نجات دلانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی ایڈولیسنٹ اسموکنگ سیسیشن کلینکس قائم کر دیے ہیں، جہاں نوجوانوں کو مفت مشاورت، علاج اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزارتِ صحت کے مطابق ان خصوصی کلینکس کا مقصد کم عمر افراد کو نکوٹین کی لت سے بروقت نجات دلانا اور انہیں مستقبل میں سنگین بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ ان مراکز میں بچوں اور نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی نگرانی میں علاج کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات، چائلڈ سائیکاٹرسٹ اور سماجی کارکن بھی معاونت فراہم کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی بڑھتی ہوئی شرح کی بڑی وجوہات دوستوں کا دباؤ، سوشل میڈیا کا اثر اور ای سگریٹ سمیت جدید نکوٹین مصنوعات تک آسان رسائی ہیں۔
وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں نکوٹین کا استعمال دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے، جس سے یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت، توجہ اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں شراب اور دیگر منشیات کی لت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
یہ خصوصی کلینکس رواں سال جون سے آغری، انقرہ، بورصہ، چناق قلعہ، چورم اور کوتاہیہ سمیت سات مراکز میں کام کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ مستقبل میں ترکیہ کے تمام 81 صوبوں تک اس سہولت کو توسیع دی جائے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ترکیہ بھر میں 1,600 سگریٹ نوشی چھوڑنے کے مراکز عوام کو مفت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ترک ادارے یشیلائے کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق 62.9 فیصد افراد نے 18 سال کی عمر سے پہلے سگریٹ نوشی شروع کی، جبکہ پہلی بار تمباکو استعمال کرنے کی اوسط عمر 16.9 سال ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث ترکیہ میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جس کے پیشِ نظر کم عمر افراد کو اس عادت سے بچانا صحتِ عامہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
