ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں دفاع اور علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ خواتین کی قیادت، بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ اور معاشرتی استحکام جیسے اہم موضوعات بھی خصوصی توجہ کا مرکز بنے۔
اجلاس کے موقع پر خاتونِ اول امینہ ایردوان نے تاریخی چنکایا محل میں نیٹو رکن اور شراکت دار ممالک کے سربراہانِ مملکت کی شریک حیات کے اعزاز میں ایک خصوصی گول میز اجلاس کی میزبانی کی، جس کا موضوع تھا "بچے، ٹیکنالوجی اور سلامتی: نئی نسل کا تحفظ”۔
اپنے خطاب میں امینہ ایردوان نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا نے جہاں نئی سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں بچوں کو نقصان دہ مواد، غلط معلومات اور ڈیٹا کے غیر ضروری استعمال جیسے نئے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نظام اور الگورتھمز میں شفافیت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ نے پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے، عمر کی تصدیق اور والدین کی نگرانی کے مؤثر نظام متعارف کرانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ نے ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ بچوں کے تحفظ کو بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
دوسری جانب نیٹو اجلاس کے ضمن میں "الائیز اِن انقرہ” پروگرام کے تحت خواتین اور جمہوریت فاؤنڈیشن (کادم) کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی مذاکرہ بھی منعقد ہوا، جس میں بحران، قدرتی آفات اور انسانی سلامتی کے دوران خواتین کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
کادم کی سربراہ جانان ساری نے کہا کہ آج کے دور میں سلامتی کا تصور صرف جنگ یا دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ ہجرت، قدرتی آفات، وبائی امراض، معاشی مشکلات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بحران کے بعد معاشرے کی بحالی میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے، تاہم اکثر اس کردار کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے ترکیہ میں نمائندے اور دیگر ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو صحت، تعلیم، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دینے سے ہی مضبوط اور پائیدار معاشرے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
نیٹو اجلاس کے موقع پر ہونے والی ان سرگرمیوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ بچوں کے محفوظ مستقبل، خواتین کی قیادت اور مضبوط معاشروں کی تعمیر بھی عالمی امن کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
