وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلوں میں ایک ارجنٹائنی فٹبالر کی اہلیہ اور دو بچے جاں بحق ہوگئے ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے لوکاس ٹریخو جو وینزویلا کی سیکنڈ ڈویژن کلب کلب اسپورٹ ماریتی مو لا گوائیرا کے لیے کھیلتے ہیں گزشتہ تین روز سے اپنی اہلیہ یانینا اور بچوں آرون اور آئینہوا کی تلاش میں ملبے تلے سرگرداں رہے۔
رپورٹس کے مطابق 38 سالہ لوکاس ٹریخو زلزلے کے وقت کاراکاس میں اپنی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں موجود تھے۔ زلزلے کے فوراً بعد وہ اپنے ساحلی گھر لا گوائیرا پہنچے جہاں ان کی اہلیہ یانینا اور دونوں بچے آرون اور آئینہوا موجود تھے۔
گھر مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ لوکاس ٹریخو نے امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر مسلسل تین روز تک اپنی فیملی کی تلاش جاری رکھی اور بھاری مشینری فراہم کرنے کی اپیل بھی کی تاکہ ریسکیو کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
ان کے دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں نے بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہوئے متاثرہ علاقے میں مزید امدادی وسائل اور بھاری مشینری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاہم اتوار کو تلاش کا یہ مرحلہ دردناک انجام کو پہنچا، جب امدادی ٹیموں نے لوکاس ٹریخو کی اہلیہ اور دونوں بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔

کلب اسپورٹ ماریتیمو لا گوائیرا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تعزیتی بیان میں اس افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا کلب اس مشکل گھڑی میں اپنے کھلاڑی کے ساتھ کھڑا ہے کلب نے مرحوم خاندان کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور لوکاس ٹریخو کے لیے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
حکام کے مطابق وینزویلا میں آنے والے زلزلوں کے نتیجے میں اب تک 1,400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق یہ ایک نایاب ڈبلٹ زلزلہ تھا جس میں دو طاقتور جھٹکے صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے آئے جس کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔
اس قدرتی آفت نے وینزویلا کے فٹبال حلقوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ وینزویلا فٹبال فیڈریشن کے مطابق قومی سطح پر کھیلنے والے کئی نوجوان فٹبالرز بھی زلزلے میں جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ بھی اس سانحے کا شکار ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن ابتدائی 72 گھنٹوں سے آگے بڑھ چکا ہے جو ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے انتہائی اہم مدت سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں مسلسل سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
