تحریر: شبانہ ایاز
مجھے ایک سوال کا جواب چاہیے۔
بس ایک سوال۔
اگر آج رات آپ کے گھر کی چھت گر جائے اور ملبے سے صرف آپ کا بچہ نکلے — زندہ — مگر ماں، باپ، بہن، بھائی سب دب کر مر چکے ہوں، تو اس بچے کو آپ کیا کہیں گے؟؟؟
دنیا نے اس کے لیے ایک نیا نام ڈھونڈ لیا ہے۔
WCNSF۔
Wounded Child, No Surviving Family۔
یعنی "زخمی بچہ، جس کا کوئی وارث نہیں بچا۔”
یہ اصطلاح کسی افسانے میں نہیں لکھی گئی۔ یہ غزہ کے اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے ایجاد کی ہے — کیونکہ اتنے زخمی بچے آرہے تھے جن کا کوئی نہ تھا کہ انہیں لینے آئے، کوئی نہ تھا جو ان کا نام جانتا ہو، کوئی نہ تھا جو ان کا ہاتھ تھامے۔
جب دنیا کسی چیز کے لیے نئی اصطلاح ایجاد کرتی ہے تو سمجھ لیں — یہ ہونا اب معمول بن چکا ہے۔
23 جون 2026 کو اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے ایک رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا۔۔۔”بچپن کی روح تباہ کر دی گئی۔”
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان کم از کم 20,179 فلسطینی بچے شہید کئے گئے اور 44,143 زخمی ہوئے۔
بیس ہزار ایک سو اناسی۔20179
ذرا رکیں۔ یہ تعداد پڑھ کر آگے مت بڑھیں۔
پاکستان میں کوئی اسکول سوچیں جس میں پانچ سو بچے ہوں۔ اب سوچیں کہ چالیس ایسے اسکول ہوں اور ان چالیس اسکولوں کے تمام بچے خدا نخواستہ شہید کردئیے جائیں۔
یہ ہے بیس ہزار کا مطلب۔
یہ شہادتیں غزہ کی کل اموات کا تقریباً 30 فیصد ہیں۔
اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ
"شواہد ثابت کرتے ہیں کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔” [Al Jazeera]
اسرائیل نے اس رپورٹ کو "libelous sham” یعنی جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ بچوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ اسرائیلی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کی فوج نے ویکسینیشن مہمات چلائیں، طبی عملے کو داخل ہونے دیا اور فیلڈ اسپتال قائم کیے۔ [International Business Times]
اسرائیل کا یہ بھی موقف ہے کہ حماس نے اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو فوجی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے جانی نقصان بڑھا۔ [The Jerusalem Post]
اسرائیلی حامی قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رپورٹ میں کہیں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ کسی اسرائیلی فوجی نے کسی بچے کو شناخت کرکے محض اس لیے ہلاک کیا کہ وہ بچہ تھا — بچوں کا مرنا اور انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنانا دو الگ باتیں ہیں۔
ٹھیک ہے۔ یہ بحث قانون دان کریں گے، عدالتیں کریں گی۔
اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کے 13 مواقع دیے —لیکن اسرائیل کی طرف سے ایک بھی جواب نہیں آیا۔
[United Nations]
غزہ میں اس وقت دو ملین انسانوں کے لیے صرف دو ہزار اسپتال کے بیڈ باقی ہیں۔ یونیسف کے مطابق چار ہزار سے زیادہ بیمار بچے طبی انخلا کے منتظر ہیں — وہ سرحدی اجازت کا انتظار کرتے کرتے اکثر مر جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے زچگی اور نوزائیدہ بچوں کے مراکز پر حملوں نے اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش اور پیدائشی نقائص میں اضافہ کیا ہے۔ [UN News]
یعنی جو بچے ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے — وہ بھی اس جنگ کا حصہ بن گئے ہیں۔
اسکول جل گئے، خواب بھی جل گئے۔۔
غزہ کے 95 سے 97 فیصد اسکول یا تو ملبہ بن چکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہیں۔ چھ لاکھ اٹھاون ہزار بچے دو سال سے تعلیم سے محروم ہیں۔
سوچیں — دو سال۔
جو بچہ 2023 میں پانچویں جماعت میں تھا، آج ساتویں میں ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہ اب بھی پانچویں میں ہے — یا کسی خیمے میں ہے — یا مٹی کے نیچے ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ غزہ ایک "گم شدہ نسل” پیدا کر رہا ہے۔ مگر نسل تو تب گم ہوتی ہے جب وہ زندہ ہو۔ جب نسل ہی نہ بچے تو پھر۔۔
غزہ میں بھوک کا رقص—بھوک جدید ترین ہتھیار
اسرائیل کا موقف ہے کہ جولائی تا اگست 2025 میں خوراک کے بحران کے بعد اس نے ترسیل میں نمایاں اضافہ کیا اور 2025 سے غذائی سامان جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ [The Jerusalem Post]
مگر غزہ میں موجود امدادی تنظیمیں کہتی ہیں کہ امداد تقسیم ہونے سے پہلے ہی ضبط یا تباہ کردی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ
تین لاکھ بیس ہزار بچے شدید غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔
جنیوا کنونشن کہتا ہے کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مگر یہ کنونشن لکھنے والے کہاں ہیں آج؟؟؟
دس سالہ "دہشت گرد "
اسرائیل کا موقف ہے کہ 16 اور 17 سال کے مسلح نوعمر افراد ایک حقیقی فوجی خطرہ تھے۔ [The Jerusalem Post]
مگر رپورٹ میں ایسے بچوں کا بھی ذکر ہے جن کی عمریں 10 اور 12 سال تھیں۔
بین الاقوامی قانون ایک بات بالکل صاف کہتا ہے کہ بچہ، بچہ ہوتا ہے۔ کوئی لیبل، کوئی بیان، کوئی فوجی اصطلاح اسے "جائز ہدف” نہیں بنا سکتی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بچوں کے سروں کو ٹارگٹ کرکے گولیاں ماری گئیں ۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جنگی جرائم پر مقدمہ چلائے۔ بین الاقوامی قانون میں "کمانڈ ریسپانسبلٹی” کا اصول کہتا ہے کہ اگر کسی کمانڈر کو اپنے ماتحتوں کے جرائم کا علم تھا اور اس نے انہیں نہیں روکا — تو وہ بھی ذمہ دار ہے۔
مگر کیا کریں کہ یہ عدالتیں چلتی آہستہ ہیں۔
اور بچے مرتے تیزی سے ہیں۔
اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی بچہ شہید کیا جا رہا ہے۔ [Al Jazeera]
تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔
وہ سوال نہیں کرتی — وہ ریکارڈ کرتی ہے۔
اس نے ریکارڈ کیا کہ ہٹلر نے یہودی بچے مارے — اور پوری دنیا نے "کبھی نہیں” کا عہد کیا۔
اب وہ یہ ریکارڈ کر رہی ہے کہ اکیسویں صدی میں، لائیو کیمروں کے سامنے، سیٹلائٹ تصاویر کے دور میں، بیس ہزار فلسطینی بچے شہید کردیے گئے — اور دنیا نے صرف بیانات جاری کیے۔
غزہ کے بچوں کی نفسیاتی تباہی نسل در نسل منتقل ہوگی — یہ ایک "occupied psyche” ہے جس میں کھیلنے، سوچنے، امید رکھنے اور شناخت بنانے کی آزادی چھن گئی ہے۔
اور ہم؟
ہم نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجا، آفس گئے، سوشل میڈیا اسکرول کیا، رات کو سو گئے۔
تاریخ یہ بھی ریکارڈ کرے گی کہ جب غزہ کے بچوں کا بچپن ملبے تلے دفن ہو رہا تھا، تو آپ کہاں تھے؟؟؟
اور ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔
