پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی اہم تنظیموں نے غیر ملکی ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات پر عائد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، ایکٹرز کلیکٹو پاکستان اور ڈائریکٹرز گلڈ پاکستان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غیر ملکی مواد پر ٹیکس ختم کرنے سے مقامی ڈرامہ اور میڈیا انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تنظیموں کے مطابق یہ ٹیکس 2013 اور 2014 میں مقامی میڈیا انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دہائی سے جاری پالیسی کو ختم کرنے سے پہلے متعلقہ فریقین سے مشاورت اور معاشی اثرات کا جائزہ ضروری ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی تخلیقی معیشت ٹیلی ویژن، فلم، ڈیجیٹل میڈیا، اشتہارات، موسیقی، اینی میشن، پوسٹ پروڈکشن اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
شوبز تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی ڈراموں اور اشتہارات کی درآمد آسان ہو گئی تو مقامی فنکاروں، پروڈیوسرز، ہدایت کاروں، لکھاریوں اور تکنیکی عملے کے لیے کام کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔
اداکار فیصل قریشی نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مواد کی واپسی سے مقامی فنکاروں اور تکنیکی ٹیموں کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اداکار و ہدایت کار شمون عباسی نے کہا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے کئی برسوں کی محنت کے بعد اپنی جگہ بنائی ہے، اس لیے غیر ملکی مواد کی غیر محدود واپسی مقامی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
شوبز تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ فیصلے پر فوری عمل درآمد روکا جائے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلایا جائے، معاشی اثرات کی رپورٹ سامنے لائی جائے اور تخلیقی شعبے کے تحفظ کے لیے قومی پالیسی بنائی جائے۔
تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس اصلاحات کے خلاف نہیں، تاہم ایسی کسی پالیسی سے پہلے بامعنی مشاورت ضروری ہے جو پاکستان کی تخلیقی صنعت اور اس سے وابستہ روزگار کو متاثر کر سکتی ہو۔
