بیجنگ: سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران چین کو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں جنوری سے مئی کے عرصے میں برآمدات کا حجم 1.55 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 48.7 فیصد زیادہ ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں یہ حجم 1.04 ارب ڈالر تھا، یوں صرف پانچ ماہ میں پاکستان کی برآمدات میں 507 ملین ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی نمایاں ترین کارکردگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تانبے سے متعلق مصنوعات پاکستان کی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ رہیں، جن کی مالیت 675 ملین ڈالر رہی، جو مجموعی برآمدات کا 43.7 فیصد بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں ان مصنوعات کی برآمدات 393 ملین ڈالر تھیں، اس طرح ان میں 71.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارچ 2026 پاکستان کے لیے سب سے کامیاب مہینہ ثابت ہوا، جب چین کو برآمدات 361.6 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مارچ 2025 کے مقابلے میں 84.3 فیصد زیادہ تھیں۔ اپریل اور مئی میں بھی برآمدات کی رفتار برقرار رہی اور بالترتیب 331 ملین اور 286 ملین ڈالر کی سطح پر رہیں۔
جی اے سی سی کے مطابق ژی جیانگ صوبہ پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی کے طور پر سامنے آیا، جہاں درآمدات کا حجم 480.7 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب بیجنگ میں پاکستانی چاول اور تل کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث درآمدات 101 ملین ڈالر سے بڑھ کر 232 ملین ڈالر تک جا پہنچیں، جبکہ گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے میں درآمدات تین گنا اضافے کے ساتھ 53 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کی ایک وجہ گوادر-سنکیانگ راہداری کے ذریعے زمینی تجارت میں توسیع قرار دی جا رہی ہے۔
چین-پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ سیکریٹریٹ اور چینی کسٹمز حکام کے مطابق پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی 2.16 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات ترجیحی ٹیرف سہولتوں کے تحت انجام پائیں۔ اس وقت سی پی ایف ٹی اے کے تیسرے مرحلے کے مذاکرات جاری ہیں، جن کے تحت مزید تقریباً 700 اشیا کو رعایتی محصولات کی فہرست میں شامل کیے جانے کی توقع ہے، جس سے اناج، حلال گوشت، پراسیس شدہ ٹیکسٹائل اور معدنی مصنوعات کے شعبوں میں پاکستان کو مزید رسائی حاصل ہو سکے گی۔
دوسری جانب چین کے رائل گروپ سے وابستہ کمپنی رائل سیل بایوٹیکنالوجی (گوانگ شی) کے مطابق پاکستان نے حالیہ دنوں میں دو ہزار بھینسوں کے ایمبریوز چین برآمد کیے ہیں، جبکہ اس سے قبل دس ہزار ایمبریوز، جن کی مالیت تقریباً 20 لاکھ ڈالر تھی، مرحلہ وار چین بھیجے جا چکے ہیں۔
رائل سیل بایوٹیکنالوجی کے پاکستان پروگرام منیجر ڈاکٹر قیصر شہزاد کے مطابق چین مستقبل میں پاکستان سے کم از کم تین لاکھ بھینسوں کے ایمبریوز درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں بھینس کے دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب اور پاکستانی بھینسوں کی اعلیٰ نسل اور زیادہ دودھ دینے کی صلاحیت کے باعث اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کمپنی کے اوورسیز بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکر ڈیرک چِن کے مطابق چین میں بھینس کے دودھ کی مصنوعات کی سالانہ فروخت تقریباً پانچ ارب یوآن تک پہنچ چکی ہے، جس سے پاکستانی لائیو اسٹاک کے شعبے کے لیے نئی تجارتی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔
