استنبول: ترکیہ اور نیوزی لینڈ نے فضائی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں روابط کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی فضائی رابطوں کو بہتر کرنا ہے۔
ترکیہ کی وزارت ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر کے مطابق اس معاہدے پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے سربراہ کمال یوکسیک اور انقرہ میں نیوزی لینڈ کے سفیر گریگ لیوس نے دستخط کیے۔ دونوں فریقین نے اس پیش رفت کو فضائی تعاون کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار 14 مسافر پروازوں کی موجودہ حد کو برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ فضائی رابطوں میں تسلسل اور استحکام قائم رہے اور ایئرلائنز کو اپنے آپریشنز بہتر انداز میں جاری رکھنے میں سہولت ملے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ مستقبل میں دو درمیانی مقامات پر اضافی فضائی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت “ففتھ فریڈم ٹریفک رائٹس” دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ ان حقوق کے تحت کسی ملک کی ایئرلائن کو یہ اجازت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک سے شروع یا ختم ہونے والی پرواز کے دوران کسی تیسرے ملک میں اتر کر وہاں سے مسافر یا کارگو بھی لے سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف فضائی آپریشنز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مسافروں اور مال بردار خدمات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے ترکیہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان تجارت، سیاحت اور فضائی رابطوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ترکیہ اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت اور جدید ایوی ایشن انفراسٹرکچر کی وجہ سے پہلے ہی عالمی فضائی نیٹ ورک میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اور یہ نیا معاہدہ اس کردار کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کی ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں نہ صرف مسافر بلکہ کارگو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
