جرمنی کے شہر ڈسلڈورف میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے ترک فلم میلے نے فن، ثقافت اور سینما کے شائقین کو ایک ہی چھت تلے جمع کر دیا۔ ترک سینما کی نامور شخصیات، ہدایت کاروں، پروڈیوسرز اور فلم بینوں کی بڑی تعداد نے اس تاریخی تقریب میں شرکت کی، جس نے یورپ میں مقیم ترک برادری اور اپنی ثقافتی جڑوں کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنانے کا پیغام دیا۔
ترکیہ کے قونصل خانے کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے اس فلمی میلے کا انعقاد ڈسلڈورف کے معروف سنیما ہال میں کیا گیا، جہاں ترک سینما کی سنہری یادوں اور جدید تخلیقات کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔
تقریب کی خاص توجہ ترک سینما کی لیجنڈری اداکارہ ہولیا کوچ ییغیت رہیں، جنہیں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے فلمی سفر کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جرمنی میں فلمائی گئی فلمیں ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ ہیں۔ خاص طور پر "المانیا، آجی وطن” کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فلم نے دنیا بھر کے مختلف فلمی میلوں میں ترکیہ کی نمائندگی کی اور بیرونِ ملک مقیم ترکوں کی زندگی کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
ہولیا کوچ ییغیت کا کہنا تھا کہ فن اور ثقافت وہ طاقت ہیں جو فاصلے ختم کر کے دلوں کو قریب لاتی ہیں۔ ان کے مطابق سینما ایک ایسی عالمی زبان ہے جو انسان کو انسان سے متعارف کرواتی ہے اور مختلف معاشروں کے درمیان مضبوط رشتے قائم کرتی ہے۔
انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا کہ یورپ میں پیدا ہونے والے کئی نوجوانوں نے انہیں یہ بتایا کہ انہوں نے ترک زبان ان کی فلمیں دیکھ کر سیکھی۔ اداکارہ کے مطابق یہ احساس ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں اور یہی ثبوت ہے کہ فن نسلوں اور سرحدوں سے بالاتر ہو کر لوگوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک مقیم ترک برادری اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایسے ثقافتی اور فلمی میلوں کا انعقاد نہایت ضروری ہے۔
پہلی بار جرمنی میں منعقد ہونے والے اس فلم میلے میں فلموں کی نمائش کے ساتھ ساتھ فنکاروں سے ملاقاتیں، خصوصی گفتگو اور مختلف ثقافتی سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جو شرکاء کو ترک سینما کے ماضی، حال اور مستقبل سے روشناس کرا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ میلہ صرف فلموں کی نمائش تک محدود نہیں بلکہ یہ ثقافتی سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، جو یورپ میں ترک ثقافت اور فن کو مزید متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
