Turkiya-Logo-top

ترکیہ میں سائبر جرائم کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 194 ملزمان گرفتار

ترکیہ نے سائبر جرائم کے خلاف اپنی کارروائیوں میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے 18 صوبوں میں وسیع پیمانے پر چھاپے مارے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران ہونے والی ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 194 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ آپریشن پولیس کے سائبر کرائمز شعبے، مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے اور سرکاری استغاثہ کے دفاتر کی مشترکہ نگرانی میں انجام دیا گیا۔ کارروائیوں کا ہدف غیر قانونی سٹے بازی کے نیٹ ورکس، آن لائن دھوکہ دہی، بچوں کے استحصال اور مالی فراڈ میں ملوث گروہ تھے۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان مختلف سائبر جرائم میں ملوث تھے، جن میں غیر قانونی جوا، جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں، سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دہی، جعلی مصنوعات کی فروخت اور فریب پر مبنی ویب سائٹس کے ذریعے شہریوں کو لوٹنا شامل ہے۔

حکام کے مطابق بعض ملزمان شہریوں کے موبائل بینکنگ اور آن لائن گیمنگ اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرتے تھے، جبکہ کچھ افراد غیر قانونی سٹے بازی کے پلیٹ فارمز کے لیے مالی لین دین میں سہولت کاری اور ان کی تشہیر میں مصروف تھے۔

کارروائی کے دوران بعض زیرِ حراست افراد کے قبضے سے بچوں کے استحصال سے متعلق ممنوعہ مواد بھی برآمد کیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہریوں کے سکون، سلامتی اور محنت کی کمائی کو نشانہ بنانے والے دھوکہ باز گروہوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں پورے ملک میں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سائبر جرائم روایتی جرائم سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں، اور ترکیہ کی حالیہ کارروائی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت ڈیجیٹل دنیا میں بھی قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

Read Previous

ترکیہ کی بڑی اپوزیشن جماعت میں اہم پیش رفت،کانگریس عمل 11 جون سے شروع ہوگا

Read Next

ترک سینما کی عالمی پرواز، جرمنی میں پہلا ترک فلم فیسٹیول منعقد

Leave a Reply