کبھی ایک ریستوران میں ہونے والی ملاقات نے آج دو مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک خوبصورت پل کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جاپان کی ایک شیف اور ایک وائلن نواز فنکارہ نہ صرف ترک موسیقی کو جاپانی عوام تک پہنچا رہی ہیں بلکہ ترک ثقافت، روایات اور کھانوں کو بھی نئی پہچان دلانے میں مصروف ہیں۔
"یاقاموز ڈو” کے نام سے مشہور یہ منفرد جوڑی جاپانی شیف ریئے ساکاموتو اور وائلن نواز ساچی پر مشتمل ہے، جنہوں نے فن اور ثقافت کے ذریعے ترکیہ اور جاپان کے درمیان فاصلے کم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔
ریئے ساکاموتو نے ترکیہ میں قیام کے دوران نہ صرف ترک کھانوں کی تربیت حاصل کی بلکہ ترک ثقافت کو بھی قریب سے جانا۔ اسی دوران انہوں نے باغلاما، یعنی ترک موسیقی کے روایتی ساز کو بجانا بھی سیکھا۔ جاپان واپس آ کر انہوں نے ترک کھانوں کا ایک خصوصی ریستوران قائم کیا، جہاں وہ مہمانوں کو ترک ذائقوں کے ساتھ ساتھ ترک موسیقی سے بھی روشناس کراتی ہیں۔
ساکاموتو کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترکیہ میں رہتے ہوئے ثقافت کے ہر رنگ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک گاؤں میں ایک ماہ گزار کر قالین بافی، سوئی دھاگے کے روایتی فن اور دیگر ثقافتی ہنر بھی سیکھے تاکہ اس ورثے کو جاپان میں متعارف کرا سکیں۔
دوسری جانب وائلن نواز ساچی کے ساتھ ان کی شراکت داری نے ترک موسیقی کو ایک نئی جہت دی ہے۔ دونوں فنکارائیں روایتی اناطولیائی دھنوں کو کلاسیکی وائلن کے ساتھ پیش کرتی ہیں، جسے جاپانی سامعین بے حد پسند کر رہے ہیں۔
ریئے ساکاموتو کے مطابق ان کے بیشتر سامعین پہلی بار ترک موسیقی سنتے ہیں، لیکن حیران کن طور پر زبان نہ سمجھنے کے باوجود اس کے جذبات کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسیقی ایک ایسی زبان ہے جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی، اور دھنیں براہِ راست دل تک پہنچتی ہیں۔
ان کی سب سے مقبول پیشکش ترک لوک گیت "میملکیتیم” ہے، جسے وہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی پل قرار دیتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان میں بھی ایک گیت موجود ہے جس کی دھن اس ترک نغمے سے بہت ملتی جلتی ہے۔
ساکاموتو کے مطابق اس مماثلت نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اگرچہ جاپان اور ترکیہ ہزاروں کلومیٹر دور ہیں، لیکن اپنے وطن سے محبت اور اس کے لیے جذبات دونوں قوموں میں یکساں ہیں۔
سن 2023 میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد "یاقاموز ڈو” نے امدادی اور خیراتی موسیقی کی محافل بھی منعقد کیں، جن کے ذریعے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس اقدام نے انہیں صرف فنکار ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی ثقافتی سفیر کے طور پر بھی نمایاں کر دیا۔
موسیقی، کھانے اور ثقافتی محبت کے امتزاج سے "یاقاموز ڈو” آج جاپان میں ترک ثقافت کا ایک خوبصورت تعارف بن چکی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ فن اور ثقافت سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے
