Turkiya-Logo-top

ترکیہ اور نائجر کے تعلقات میں نیا باب، انقرہ میں اہم معاہدوں پر دستخط

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے نائجر کے صدر عبدالرحمان تیانی اور ان کے وفد کا انقرہ میں استقبال کیا، جو افریقہ سے باہر ان کا پہلا سرکاری دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات کے بعد صدر ایردوان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور نائجر کی دوستی تاریخی بنیادوں اور باہمی احترام پر قائم ہے۔

صدر ایردوان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دفاعی صنعت، سلامتی، توانائی، کان کنی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور نائجر کے درمیان اقتصادی و تجارتی مشترکہ کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو مستقبل میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے ترکیہ-نائجر دوستی اسپتال کے آپریٹنگ پروٹوکول کی تجدید بھی کی ہے، جو نائجر میں صحت کے شعبے اور انسانی ہمدردی کی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ افریقی عوام کا ایک مخلص دوست ہے اور نائجر کی ترقیاتی کوششوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ترکیہ اور نائجر نے باہمی تعلقات کو ہر شعبے میں آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ افریقی ممالک کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور "باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری” کے اصولوں کے تحت تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ صدر ایردوان کے مطابق ساحل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد میں بھی ترکیہ اپنے دوست اور برادر ممالک کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ایک اور بیان میں صدر ایردوان نے نائجر کو افریقہ میں ترکیہ کا ایک اہم اور قریبی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صدیوں پر محیط تاریخی روابط پر مبنی ہیں اور روز بروز مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں دفاع، معیشت، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون نئی بلندیوں تک پہنچے گا۔

Read Previous

یورو سیٹری 2026 میں اسرائیلی جارحانہ ہتھیاروں کی نمائش پر فرانس کی پابندی

Read Next

اسرائیل جنگ بندی سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، اسے روکنا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے: حاقان فیدان

Leave a Reply