فرانس نے 2026 میں ہونے والی عالمی دفاعی نمائش یورو سیٹری میں اسرائیلی جارحانہ ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد فرانس اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اسرائیل کی مبینہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور خطے میں جاری تنازعات کے حوالے سے اختلافات پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔
نمائش کے منتظم ادارے کے صدر چارلس بیودوئن کے مطابق صرف وہی اسرائیلی نمائش کنندگان شرکت کر سکیں گے جو بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی نظام جیسے دفاعی نوعیت کے ہتھیار پیش کریں گے۔ تاہم کسی بھی کمپنی کو جارحانہ ہتھیار یا راکٹ سسٹمز کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نمائش میں کوئی بھی جارحانہ ہتھیار شامل نہ ہو، اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس پابندی کے بعد اسرائیل یورو سیٹری 2026 میں اپنا قومی پویلین قائم کرنے سے قاصر ہوگا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ افسوسناک ہے اور سیاسی و تجارتی دباؤ کا نتیجہ ہے جو فرانسیسی رویے میں ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فرانس نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی تھی، جب اسرائیلی فوج نے لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر کے وہاں اپنا پرچم لہرا دیا تھا۔
یورو سیٹری 2026 ایک بڑی عالمی دفاعی نمائش ہے جو 15 سے 19 جون تک فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شمال میں واقع پیرس نور ویلی پینتے نمائشی مرکز میں منعقد ہوگی۔
