Turkiya-Logo-top

ابھرتی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے بغیر عالمی استحکام ممکن نہیں، جنرل نعمان ذکریا

سنگاپور: پاکستان کے سینئر فوجی عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور فوجی جدیدکاری عالمی سلامتی کے منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے، تاہم ان ترقیات کو اخلاقیات، ذمہ داری اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کے تحت آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

سنگاپور میں منعقدہ شنگریلا ڈائیلاگ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، سائبر صلاحیتوں، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ملٹی ڈومین آپریشنز نے فوجی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجیز جہاں نئی صلاحیتیں فراہم کر رہی ہیں وہیں غلط اندازوں، غیر ارادی کشیدگی اور اسٹریٹجک عدم استحکام کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں ریاستیں تیزی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ٹیکنالوجیکل نظاموں پر انحصار کر رہی ہیں، جس کے باعث بحرانوں کے دوران فیصلہ سازی کے لیے دستیاب وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے دفاعی حکمت عملیوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو بھی متاثر کیا ہے۔

جنرل نعمان ذکریا نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلوماتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق گمراہ کن معلوماتی مہمات اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ عوامی اعتماد کو متاثر کر رہا ہے اور پالیسی سازوں کے لیے درست اور بروقت فیصلے کرنا مزید مشکل بنا رہا ہے۔

جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں اسٹریٹجک استحکام اب بھی جوہری قوت، روایتی فوجی عدم توازن، سیاسی کشیدگی اور پاکستان و بھارت کے درمیان موجود حل طلب تنازعات سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی عسکریت پسندی اور جارحانہ بیانات طویل المدتی امن و سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنے کے مؤثر طریقہ کار اور بحران کے دوران رابطے کے مضبوط نظام انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ غلط فہمیوں سے بچنے اور تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بروقت رابطہ اور مکالمہ ناگزیر ہے۔

اپنے خطاب میں جنرل نعمان ذکریا نے چین کو خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ میں ایک مثبت قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور ترقی کے مختلف منصوبوں کے ذریعے خطے میں توازن پیدا کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں، سائبر آپریشنز اور خلائی ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال کے لیے عالمی سطح پر متفقہ اصول اور ضابطہ اخلاق وضع کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلوں میں انسانی نگرانی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری اور احتساب کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا نے ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی، شفافیت اور تکنیکی سطح پر مسلسل مکالمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی استحکام صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مؤثر رابطوں، اعتماد اور سفارتی تعامل سے بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سائبر گورننس، ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت، خلائی سلامتی اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن اور استحکام کبھی بھی ٹیکنالوجی کی ترقی کا خودکار نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا انحصار سیاسی ذمہ داری، اسٹریٹجک تحمل اور مسلسل بین الاقوامی تعاون پر ہوتا ہے

Read Previous

ترکیہ میں ایک ڈرامہ اور پرانا نظریاتی محاذ

Read Next

اسلام آباد کلب میں “نائٹ آف تھینکس” ایونٹ، ترکیہ سفیر سمیت اہم شخصیات کی شرکت

Leave a Reply