Turkiya-Logo-top

پینٹاگون کی خفیہ یو ایف او فائلیں منظرعام پر،چاند پر خلا بازوں نے کیا دیکھا؟

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق کئی دہائیوں پر محیط خفیہ دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں خلا بازوں، فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانب سے دیکھی گئی پراسرار اشیاء کی تفصیلات شامل ہیں۔

یہ فائلیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جمعے کے روز آن لائن جاری کی گئیں۔ ٹرمپ نے رواں سال کہا تھا کہ عوامی دلچسپی کے باعث یو ایف اوز سے متعلق تمام ممکنہ ریکارڈ عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

پینٹاگون کی ویب سائٹ پر اس وقت 161 فائلیں دستیاب ہیں جبکہ مزید دستاویزات بھی جاری کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

حالیہ برسوں میں امریکہ میں خلائی مخلوق اور نامعلوم اڑنے والی اشیاء سے متعلق عوامی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

2022 میں امریکی کانگریس نے تقریباً 50 برس بعد پہلی مرتبہ یو ایف اوز کے موضوع پر باضابطہ سماعتیں کیں، جبکہ امریکی فوج نے بھی اس معاملے پر مزید شفافیت لانے کا وعدہ کیا تھا۔

اسی دوران سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کائنات میں زندگی کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم بطور صدر انہیں خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا


جاری کردہ دستاویزات میں اپالو 11، اپالو 12 اور اپالو 17 مشنز کے خلا بازوں کی خفیہ گفتگو اور رپورٹس بھی شامل ہیں۔ اپالو 11 کے مشہور خلا باز بز آلڈرِن نے بتایا کہ چاند کے سفر کے دوران انہوں نے ایک انتہائی روشن روشنی دیکھی تھی، جس کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی
اسی طرح اپالو 12 کے خلا باز ایلن بین نے خلا میں چمکتی ہوئی روشنیوں اور ذرات کا ذکر کیا، جو بظاہر چاند کی سطح سے نمودار ہوتے محسوس ہوئے۔
اپالو 17 مشن کے دوران بھی خلا بازوں نے خلا میں چمکتی روشنیوں کا مشاہدہ کیا۔ بعد میں امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ روشنی برف کے ذرات پر پڑنے والے عکس کا نتیجہ ہو سکتی ہے

دستاویزات میں 1965 کے جیمنی 7 مشن کی آڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے، جس میں خلا باز فرینک بورمین نے ناسا کنٹرول روم کو ایک نامعلوم شے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

ان کے مطابق خلائی جہاز کے قریب ہزاروں چمکتے ذرات دکھائی دے رہے تھے، جن کی نوعیت واضح نہیں تھی
پینٹاگون کی جاری کردہ رپورٹس میں متعدد شہریوں کے بیانات بھی شامل ہیں، جنہوں نے مختلف ادوار میں پراسرار فضائی مظاہر دیکھنے کا دعویٰ کیا
ایک رپورٹ کے مطابق 1957 میں ایک امریکی شہری نے ایف بی آئی کو اطلاع دی کہ اس نے ایک بڑی گول شکل کی اڑنے والی شے کو زمین سے بلند ہوتے دیکھا

اسی طرح 2023 میں بھی بعض امریکی شہریوں نے تیز روشنی میں سے نمودار ہونے والی دھاتی معلق اشیاء دیکھنے کا دعویٰ کیا۔
فائلوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
عراق، شام اور متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ ہونے والی ویڈیوز میں ایسے فضائی اجسام دکھائی دیے جنہیں پینٹاگون نے “نامعلوم فضائی مظاہر” قرار دیا۔


ایک ویڈیو میں بیضوی شکل کی ایک تیز رفتار شے کو دیکھا جا سکتا ہے، جسے ابتدائی طور پر ممکنہ میزائل قرار دیا گیا
ریپبلکن رکن کانگریس ٹم برچیٹ نے خفیہ یو ایف او فائلوں کے اجرا کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شفافیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی کانگریس خاتون اینا پالینا لونا نے بھی اسے “درست سمت میں بڑا قدم” قرار دیا۔
تاہم بعض امریکی سیاستدانوں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ سابق کانگریس خاتون مارجری ٹیلر گرین کے مطابق حکومت اس معاملے کو عوام کی توجہ مہنگائی اور عالمی تنازعات سے ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے

پینٹاگون کی جانب سے جاری کی گئی یہ فائلیں ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر رہی ہی کہ آیا انسان واقعی کائنات میں تنہا ہے یا نہیں۔
اگرچہ ان دستاویزات میں خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں، تاہم خلا بازوں، فوجی اہلکاروں اور شہریوں کے بیانات نے اس بحث کو مزید تقویت دے دی ہے کہ شاید کائنات میں اب بھی کئی راز ایسے ہیں جنہیں انسان مکمل طور پر سمجھ نہیں سکا

Read Previous

وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ-ایران مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

Read Next

آبنائے ہرمز اور خلیج اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے، ترک وزیر تجارت

Leave a Reply