واشنگٹن: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ‘وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن’ (WHCA) کے سالانہ عشائیے کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرفتار حملہ آور کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حملہ آور کا منشور اور سنگین الزامات
واقعے کے فوراً بعد گرفتار کیے گئے 31 سالہ ملزم کول تھامس ایلن (Cole Thomas Allen) کے مبینہ نوٹس اور ایک تحریری منشور منظرِ عام پر آیا ہے۔
- اس منشور میں ملزم نے نہ صرف اس حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتہائی سخت نوعیت کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں، جس کے بعد امریکی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
"یہ ایک بیمار ذہن کی گھڑی ہوئی کہانی ہے” — ٹرمپ کا جوابی وار
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب اینکر نے ملزم کے منشور میں درج الزامات پڑھ کر سنائے تو ڈونلڈ ٹرمپ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"یہ تمام باتیں سراسر بے بنیاد ہیں۔ میں کسی بھی صورت میں وہ شخص نہیں ہوں جس طرح مجھے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ سب ایک بیمار ذہن کی گھڑی ہوئی من گھڑت کہانی ہے۔”
ٹرمپ نے اس موقع پر میڈیا پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے درج ذیل باتیں کیں:
- میڈیا کا کردار: ایسے سنگین اور بے بنیاد الزامات کو ٹی وی پر نشر کرنا میڈیا کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
- منفی تاثر: یہ سب ان کے خلاف جان بوجھ کر ایک منفی تاثر بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
- سیاسی مخالفین پر الزام: انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی ان تمام معاملات سے مکمل طور پر بری ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، اس نوعیت کے واقعات میں اکثر وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو سیاسی طور پر مخالف سمت میں بیٹھے ہیں۔
انخلا سے انکار اور سیکیورٹی انتظامات پر سوالات
حملے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک حیران کن انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت انہوں نے فوری طور پر ہال سے انخلا کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ وہ خود صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کرنا چاہتے تھے۔
سیکیورٹی میں بڑی خامی: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس انتہائی اہم اور حساس تقریب کو وہ اعلیٰ ترین سیکیورٹی درجہ (High-level Security Clearance) فراہم نہیں کیا گیا تھا جو عام طور پر ایسے مواقع پر دیا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے تقریب کے موجودہ مقام کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ مستقبل میں ایسے جان لیوا خطرات سے بچنے کے لیے ایک نیا اور زیادہ محفوظ ہال تعمیر کیا جائے گا۔
ایک انوکھی تجویز: ICE کا نام بدل کر NICE رکھنے کی حمایت
اسی گرما گرم بحث کے دوران ٹرمپ نے ایک اور متنازع مگر دلچسپ تجویز کی حمایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی امیگریشن ادارے ‘امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ’ (ICE) کا نام تبدیل کر کے "نیشنل امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ” رکھ دیا جائے، تاکہ اس کا مخفف "NICE” (نائس) بن سکے اور عوام میں اس ادارے کا سخت گیر امیج قدرے بہتر ہو سکے۔
