Turkiya-Logo-top

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟ بجلی بحران یا انتظامی ناکامی؟


پاکستان میں بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں شیڈولڈ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے حکومت نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ تقریباً 2.25 گھنٹے کی بجلی بندش نافذ کر دی ہے جو خاص طور پر شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان کی جا رہی ہے
پاکستان کے پاور ڈویژن نے منگل کے روز ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ملک میں جاری بجلی کی صورتحال کی وضاحت پیش کی ہے
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ لوڈ شیڈنگ حکومت کی “پبلک ریلیف اسٹریٹجی” کا حصہ ہے جس کا مقصد بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنا اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ کو روکنا ہے پاور ڈویژن کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کے نرخوں میں پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا دباؤ پیک آورز (شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک) کے دوران پیدا ہوتا ہے جب بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ اسی دوران پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے
پاور ڈویژن کے مطابق پیک آورز میں تقریباً 2.25 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں ممکنہ تین روپے فی یونٹ اضافہ روکا جا سکتا ہے تاہم فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ برقرار رہتا ہے
اعلامیے میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر فیڈر کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے شیڈول کو صارفین تک واضح طور پر پہنچائیں تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے
ترجمان نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو عالمی معاشی اور توانائی بحران کے اثرات سے کم سے کم متاثر کیا جائے اور ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے
سرکاری اور توانائی ذرائع کے مطابق موجودہ بحران کے پیچھے متعدد ساختی اور فوری عوامل کارفرما ہیں
پاکستان کو بجلی پیدا کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی، کوئلہ اور فرنس آئل پر انحصار کرنا پڑتا ہے حالیہ مہینوں میں درآمدی ایندھن کی کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث کئی پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت پر کام نہیں کر پا رہے
توانائی حکام کے مطابق بعض اوقات تقریباً 30 فیصد تک پیداواری صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے جس سے مجموعی سپلائی کم ہو جاتی ہے حکام کے مطابق بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے ایندھن کا استعمال اور روپے کی قدر میں کمی نے پیداواری لاگت کو مزید بڑھا دیا ہے اگر حکومت مکمل طلب کو مہنگے ایندھن سے پورا کرے تو اس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے اسی لیے محدود لوڈ مینجمنٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے

Read Previous

امن مشن یا بڑی سفارتکاری؟وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا چار روزہ اہم دورہ شروع،

Read Next

فیلڈ مارشل پاکستان سید عاصم منیر ایران پہنچ گئے

Leave a Reply