Turkiya-Logo-top

امن مشن یا بڑی سفارتکاری؟وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا چار روزہ اہم دورہ شروع،

اسلام آباد سے وزیراعظم شہباز شریف بدھ کے روز سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پندرہ سے اٹھارہ اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ دورے کے پہلے مرحلے میں وہ جدہ پہنچیں گے جہاں ان کی ملاقات سعودی قیادت سے متوقع ہے، جن میں ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بھی شامل ہیں۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دورے بنیادی طور پر دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جن کے دوران جاری تعاون، علاقائی صورتحال اور امن و سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترکیہ میں وزیراعظم شہباز شریف پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے، جہاں وہ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ لیڈرز پینل میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ حکام کے مطابق اس فورم میں شرکت پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ تعمیری سفارتکاری، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی امور میں فعال کردار جاری رکھے گا۔

فورم کے موقع پر وزیراعظم کی ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں باہمی تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی جائے گی۔

وزیراعظم کے ہمراہ اس دورے میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکرات کے انعقاد کے بعد پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے دفاعی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں مضبوط رہے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید تین ارب ڈالر جمع کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ موجودہ پانچ ارب ڈالر کی سہولت کو مزید تین سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

دفاعی تعاون کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے کسی بھی ایک ملک پر حملے کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان کے سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے میں امن کے فروغ اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Read Previous

صدر رجب طیب ایردوان کا بڑا اعلان، 2028 تک لاکھوں گھروں کو ملکی گیس فراہم کرنے کا ہدف

Read Next

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟ بجلی بحران یا انتظامی ناکامی؟

Leave a Reply