turky-urdu-logo

ترک عوام نے ہمارے ترکیہ کی صدی کے خواب کا خیر مقدم کیا، صدر ایردوان

 رجب طیب ایردوان نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد کہا کہ 85 ملین شہریوں اور ملک کی جمہوریت جیت گئی ہے۔

صدر ایردوان نے دارالحکومت انقرہ میں یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز ترکیہ کی 79ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترک جمہوریت اور ترک قوم نے انتخابی میراتھن جیت لی ہے۔

28 مئی کو، ترک  شہری صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ میں گئے جب 14 مئی کو پہلے راؤنڈ میں کسی بھی امیدوار نے واضح کامیابی کے لیے درکار 50% حد کو عبور نہیں کیا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق، ایردوان نے 52.14 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوڑ میں کامیابی حاصل کی، جبکہ مخالف امیدوار کمال کلچدار اولو کو 47.86 فیصد ووٹ ملے۔

ایردوان کا کہنا تھا کہ ہر وہ شہری جو قومی ارادے پر بھروسہ کرتا ہے، ملک کی ترقی کے لیے خواب دیکھتا ہے، اور یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہے، وہ اس الیکشن کا غیر متنازعہ فاتح ہے۔

ترکیہ نے اپنی تاریخ میں "انتہائی اہم” انتخابی عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔

انکا کہنا تھا کہ انہیں عالمی رہنماؤں کی جانب سے دوبارہ منتخب ہونے پر تقریباً 110 مبارکبادی پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کے ساتھ وہ ہر شعبے میں تعلقات کو مزید بڑھانے پر متفق ہیں۔

اردگان نے کہا کہ ترکی اپنے گردونواح میں بحرانوں کے حل کے لیے مزید اقدامات کرے گا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے کام کرے گا، اردگان نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے علاوہ انقرہ خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط کرے گا۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترکیہ نے روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے حل کے لیے بوجھ کو بانٹ دیا ہے، ایردوان نے کہا کہ اناج کی کھیپ اور قیدیوں کے تبادلے کے سودوں کے ساتھ، ترکیہ نے دکھایا ہے کہ ایک سفارتی حل ممکن ہے۔

انکا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے ترکیہ کو ایک ایسے تنازعے کا فریق بننے سے روکا ہے جس کا خاتمہ تباہی پر ہو گا۔

بہت سے ترک شہریوں کو ویزا کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال میں اضافہ اور ملاقات کی تاریخ حاصل کرنے کے لیے مہینوں کا انتظار کرنا۔

معاشرے کے کچھ طبقوں کی طرف سے فلاح و بہبود کے نقصان کی تلافی کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں، ایردوان نے کہا کہ  ہم اپنے شہریوں کو مہنگائی کے ہاتھوں پسنے کی اجازت نہ دینے کی اپنی پالیسی پر سختی سے پابند ہیں۔ ہم نے اپنے 21 سال کے اقتدار میں اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیشت میں اتار چڑھاو کے پرسکون ہونے پر ترکیہ کو مثبت اثرات نظر آئیں گے۔

ایردوان نے کہا کہ ہم ترکیہ کو اس کے خطے کا ابھرتا ہوا ستارہ بنائیں گے۔ ہم مل کر اسے حاصل کریں گے جیسا کہ ہم نے گزشتہ 21 سالوں میں کیا ہے۔

Read Previous

پارلیمانی انتخابات میں آق پارٹی سب سے زیادہ نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے، سپریم الیکشن کونسل

Read Next

پاکستان میں اقوام متحدہ کے تعاون سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے 75 سال مکمل ہونے پر شاندار تقریب کا انعقاد

Leave a Reply