یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے کہا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا نے 2020 میں کاراباخ کے علاقے پر چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد امن معاہدہ قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یورپی یونین کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آرمینیائی وزیر اعظم نکول پشینیان نے برسلز میں مشیل سے ملاقات کی اور جنوبی قفقاز میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔جبکہ مشیل نے ان مذاکرات کو "کھلے اور نتیجہ خیز” قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ایک ماہ کے اندر ملاقات کر کے متن کے مسودے پر کام کریں گے۔ہم نے سرحد کی حد بندی سے متعلق تمام سوالات پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح ایک مستحکم صورتحال کو یقینی بنایا جائے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ بارڈر کمیشن کی اگلی میٹنگ نومبر میں برسلز میں ہوگی۔
انسانی ہمدردی کے مسائل بشمول تخریب کاری، حراست میں لیے گئے افراد اور لاپتہ افراد کی قسمت بھی سہ فریقی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھی۔ مشیل، علیوف اور پشینیان کے درمیان ٹرانسپورٹ روابط کو غیر مسدود کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔مشیل نے کہا ہے کہ میں اس بات کی نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ دونوں طرف کی آبادی کی حمایت کرنا اور انہیں طویل مدتی پائیدار امن کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔ سہ فریقی اگلا اجلاس نومبر کے آخر تک ہوگا۔
یاد رہے کہ27 ستمبر 2020 کوشروع ہونے والے اس 44 روزہ تنازعہ کے دوران آذربائیجان نے کئی شہروں اور 300 کے قریب بستیوں اور دیہاتوں کو آزاد کرایا جن پر تقریباً 30 سال سے آرمینیا کا قبضہ تھا۔یہ لڑائی 10 نومبر 2020 کو روسی ثالثی کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی، جسے آذربائیجان کی فتح اور آرمینیا کی شکست کے طور پر دیکھا گیا۔تاہم اس کے بعد سے اب تک کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔
