شام میں ترک سیکیورٹی فورسز پر مسلسل دہشت گرد حملوں سے ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، شام کے شمالی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کا ترک سیکیورٹی فورسز یا مقامی فورسز کے ذریعے صفایا کر دیا جائے گا۔
ترک صدر ایردوان نے کابینہ اجلاس کے بعد نیور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کو ترک سیکیورٹی فورسز پر حملے میں دو ترک فوجی شہید ہو گئے تھے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
صدرکا کہنا تھا کہ شام کے شمالی علاقوں سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا نام ونشان مٹا دیں گے ۔ اس مقصد کے لیے ترک فورسز اور شام کی مقامی فورسز کی مدد لی جائے گی۔
صدر ایردوان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی نے 2016 سے شمالی شام کے علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف تین آپریشنز کیے۔
ترک صدر کے مطابق رواں سال 153 دہشتگردوں نے سیکورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالے اور ایک ہزار سے زائد افراد کو گزشتہ پانچ سالوں میں دہشتگردوں سے بازیاب کروایا۔
ترکی دہشتگرد تنظیم پی کے کے، داعش اور فیٹو کے خلاف جنگ میں کئی سالوں سے ملوث ہے۔
