Turkiya-Logo-top

30 اگست فتح کا دن

30اگست فتح کا دن ترکی کی جنگ آزادی میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سال ترکی 99 واں یوم فتح منا رہا ہے۔

یوم فتح 1922 میں ہونے والی یونانی افواج کے خلاف ڈپلومنار کی جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

یہ وہ جنگ ہے جس میں ترکی نے کلیدی فتح حاصل کی تھی۔

ترکی کے کمانڈر ان چیف مصطفی کمال اتاترک نے اس جنگ کی قیادت کی تھی۔

اس جنگ کو ڈملوپنار کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

اس دن کو پہلی بار سن 1924 میں منایا گیا تھا۔

سن 1926 سے لے کر اب تک 30 اگست کا دن ایک سرکاری اور قومی چھٹی کے طور پر منا یا جاتا ہے اور یہ فتح کا دن کہلاتا ہے۔

ڈملوپینار میں بنایا گیا عظیم جارحانہ منصوبہ

کمانڈر ان چیف مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں یہ عظیم جارحانہ منصوبہ 26 اگست 1922 کو شروع ہوا اور 30 اگست 1922 تک جاری رہا۔

اس جارحانہ منصوبے سے اتاترک کے علاوہ صرف چند ہی لوگ باخبر تھے اور اسے خوفیہ رکھتے ہوئے انجام دیا گیا تاکہ فتح ترکی کا مقدر بن سکے اور اس طرح یہ لڑائی ترک فوج کی فتح کا باعث بنی۔

جس عمارت میں بیٹھ کر اس جارحانہ منصوبے کو انجام دیا گیا تھا اسے بعد میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اس میوزیم میں موجود کمروں کو اتاترک اور انکے ساتھی فوجیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جہاں بیٹھ کر وہ اس جارحانہ منصوبے پر کام کرتے تھے۔

عجائب گھر کو اگلی نسلوں کے لیے ایک مثال کے طور پر تیار کیا گیا ہے کہ کیسے ترکوں نے قربانیوں اور اپنی کوششوں سے فتح حاصل کی تھی۔

فتح کی واک

یوم فتح کی یاد میں منائی گئی تقریبوں کے دوران 30 اگست کو کی جانے والی فتح کی واک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

فتح کی واک میں ترکی کے تمام شہری، این جی اوز اور طلبہ واک میں حصہ لیتے ہیں۔

یہ لمبی سڑک شوہت سے شروع ہو کر خوجتیب تک جاتی ہے۔

یہ سفر 99 سال پہلے شروع ہوا تھا ، 1922 میں یہ واک شروع کرنے والے لوگوں نے یہ سفر مکمل تو کیا تھا مگر افسوس وہ واپس نہیں آسکے تھے، انہی کی یاد میں ہر سال اس واک کانعقاد کیا جاتا ہے ،اس واک کو مکمل کرنے پر آپکو اتاترک کا مجسمہ کھڑا نظر آتا ہے جو 1922 میں حاصل ہونے والی فتح کی یاد کو تازہ کر دیتا ہے۔

یہ واک ترکی کےجھنڈوں اور مشعلوں کے ساتھ مکمل کی جاتی ہے۔ یہ واک صبح کی روشنیوں کے ساتھ نوجوان نسل کو تاریخ یاد دلاتی ہے اور انہیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ روشن دن شہیدوں کی قربانیوں کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔

Read Previous

ترکی جنگی ڈرونز کی تیاری میں صف اول کے ممالک میں شامل ہے ، صدر ایردوان

Read Next

افغانستان: کابل ایئر پورٹ کے قریب راکٹ حملے اور فائرنگ

Leave a Reply