fbpx
ozIstanbul

پاکستان: اسلام آباد اور راولپنڈی میں مسلسل بارش، سیلاب کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہوگیا اور گھر میں پانی داخل ہونے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شدید بارش سے سب سے زیادہ اسلام آباد کا علاقہ سیکٹر ای-11 متاثر ہوا جہاں پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ پانی کے ریلے میں بہہ کر درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس حکام کے مطابق سیکٹر ای-11 ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر مشتمل سیکٹر ہے اور پولیس فاؤنڈیشن کے پیٹرن انچیف سیکریٹری داخلہ خود ہیں، جہاں سوسائٹی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔

حکام کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سوسائٹی انتظامیہ کی کوئی بھی مشینری موجود نہیں تھی بعدازاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) انتظامیہ نے سیکٹر ای-11میں ہنگامی بنیادوں پر سیلابی پانی کو نکالنے کے لیے کام کیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ سیکٹر ای-11 کے ایک گھر کی بیسمنٹ میں رہائش پذیر خاندان سے تعلق رکھنے والے ماں بیٹا پانی بھر جانے کے سبب جاں بحق ہوگئے۔

خیال رہے کہ صبح سویرے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آگیا ہے، ٹیمیں نالوں / سڑکوں کو صاف کررہی ہیں، امید ہے کہ ہم ایک گھنٹہ میں سب کچھ کلیئر کردیں گے۔

تاہم ایک بیان میں محکمہ موسمیات نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 26 جولائی کو موسم کی صورتحال کے حوالے سے پیش گوئی جاری کی جاچکی تھی یہ شدید بارش تھی جسے کلاؤڈ برسٹ نہیں کہا جاسکتا۔

دوسری جانب بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر سی ڈی اے کی جانب سے متعدد ٹوئٹس میں امدادی کارروائیوں اور راستے کلیئر کرنے کے عمل سے آگاہ کیا جاتا رہا۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں سی ڈی اے نے بتایا کہ پشاور موڑ انٹرچینج ، سری نگر ہائی وے پر متعدد مقامات کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

راولپنڈی کی صورتحال

راولپنڈی اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے نالہ لئی میں طغیانی آگئی اور پانی کی سطح 19 فٹ تک بلند ہوگئی۔

بارشوں کے باعث اسلام آباد سے بڑا پانی کا ریلا راولپنڈی داخل ہوا جس کے باعث گوالمنڈی اور نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور امدادی ٹیموں کو بھی طلب کر لیا گیا۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے، صورتحال کے پیشِ نظر پاک فوج اور اداروں کے اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے وہ نالہ لئی میں آنے والی طغیانی کا جائزہ لینے کے لیے گوالمنڈی پل پہنچے جہاں ایم ڈی واسا راجا شوکت، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شیخ رشید کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نالہ لئی ہر بیس سال بعد 2 سو آدمیوں کی جان لیتا ہے، بیس سال پہلے کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب نے نیسپاک کو کم لاگت پر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے جس سے غریب بستیاں بہتر ہوجائیں گی اور 90 دنوں میں اس پر کام شروع ہوجائے گا۔

نالہ لئی راولپنڈی کا واحد مسئلہ ہے جسے شروع کیا تھا تو 26 ارب روپے کا منصوبہ تھا لیکن اب اس کی لاگت 90 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 7 پرانے نالے بند ہیں جن پر لوگوں نے قبضہ کر کے تعمیرات کرلی ہیں تاہم نالہ لئی کو ٹھیک کرنا میری زندگی کا مشن ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں جہاں جہاں پانی ہے وہاں پاک فوج، واسا سمیت تمام انتظامی مشینری الرٹ ہے۔

پچھلا پڑھیں

افغانستان میں عالمی طاقتوں کی لڑائی کے نتائج پاکستان اور افغان عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں، فواد چوہدری

اگلا پڑھیں

امریکی اور نیٹو افواج کی شکست کا الزام پاکستان پر لگانا ناانصافی ہے، پاکستانی وزیر اعظم

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے