Turkiya-Logo-top

بھارت میں سکھ مخالف فسادات کے 42 برس مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

1984 کے سکھ مخالف فسادات اور آپریشن بلیو اسٹار کو 42 برس مکمل ہو چکے ہیں دنیا بھر میں سکھ برادری آج بھی ان واقعات کی یاد تازہ کرتے ہوئے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے مختلف ممالک میں تقریبات، دعائیہ اجتماعات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جبکہ سکھ تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ 1984 کے واقعات میں ملوث تمام ذمہ داروں کو مکمل طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

1984 کے سکھ مخالف فسادات جدید بھارتی تاریخ کے سب سے متنازع اور افسوسناک واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ سانحہ صرف چند روزہ تشدد تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں پنجاب کی سیاسی صورتحال، آپریشن بلیو اسٹار اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل جیسے اہم واقعات شامل تھے۔

1970 اور 1980 کی دہائی میں بھارتی ریاست پنجاب میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بعض سکھ جماعتیں پنجاب کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کر رہی تھیں جبکہ کچھ حلقوں میں علیحدہ سکھ ریاست "خالصتان” کے قیام کی آواز بھی بلند ہو رہی تھی۔

اسی دوران مذہبی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے سکھ سیاست اور مذہبی حلقوں میں ایک نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔ ان کے حامی انہیں سکھ حقوق کی آواز قرار دیتے تھے جبکہ بھارتی حکومت انہیں شدت پسندی سے جوڑتی تھی۔

جون 1984 میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے "آپریشن بلیو اسٹار” کی منظوری دی۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد امرتسر میں واقع ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) کمپلیکس میں موجود مسلح افراد کو نکالنا تھا۔

3 سے 8 جون 1984 تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں بھارتی فوج نے کمانڈوز، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔ کارروائی کے دوران بھنڈرانوالے مارے گئے جبکہ متعدد جنگجوؤں، زائرین اور عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ گولڈن ٹیمپل کمپلیکس کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس پر دنیا بھر کی سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

آپریشن بلیو اسٹار کے تقریباً پانچ ماہ بعد، 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں بینت سنگھ اور ستونت سنگھ نے گولی مار کر قتل کر دیا تحقیقات کے مطابق اس حملے کو آپریشن بلیو اسٹار کے ردعمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں سکھ برادری کے خلاف پرتشدد حملے شروع ہو گئے کئی علاقوں میں سکھوں کے گھروں، کاروباری مراکز اور گردواروں کو نشانہ بنایا گیا۔

بعض مقامات پر ووٹر لسٹوں یا دیگر سرکاری ریکارڈز کی مدد سے سکھ خاندانوں کی شناخت کی گئی متعدد متاثرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کئی علاقوں میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث تشدد مزید پھیل گیا۔

بھارتی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر 1984 کے فسادات میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت سکھوں کی تھی تاہم مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور سکھ گروپوں کا مؤقف ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں کاروبار اور املاک تباہ ہوئیں۔

فسادات کے بعد کئی سیاسی شخصیات پر ہجوم کو اکسانے یا حملوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ ان الزامات میں سجن کمار اور جگدیش ٹائٹلر کے نام نمایاں رہے۔ کئی دہائیوں تک مختلف مقدمات چلتے رہے اور بعض کیسز میں سزائیں بھی سنائی گئیں تاہم متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تمام ذمہ دار افراد کا مکمل احتساب نہیں ہو سکا۔

بعد ازاں منظر عام پر آنے والی بعض سرکاری دستاویزات نے آپریشن بلیو اسٹار کی منصوبہ بندی میں برطانیہ کے ممکنہ مشاورتی کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ ان دستاویزات کے اجرا کے بعد برطانیہ میں مقیم سکھ برادری نے متعدد احتجاجی مظاہرے کیے اور واقعے سے متعلق مزید شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

1984 کے واقعات کو سکھ برادری کا ایک بڑا حصہ محض فسادات نہیں بلکہ ایک منظم قتلِ عام یا "پوگروم” قرار دیتا ہے چار دہائیاں گزرنے کے باوجود آپریشن بلیو اسٹار، اندرا گاندھی کا قتل اور اس کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات جنوبی ایشیا کی تاریخ کے حساس ترین ابواب میں شمار ہوتے ہیں جن کے اثرات آج بھی سکھ برادری اور بھارتی سیاست میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

Read Previous

نائجر کے صدر عبدالرحمان تیانی کا Baykar نیشنل ٹیکنالوجی سینٹر کا دورہ، ترکیہ اور نائجر کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے امکانات روشن

Read Next

امریکہ کی 250ویں سالگرہ: پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی اسٹریٹجک شراکت داری قرار دے دیا

Leave a Reply