دورہ استنبول-ایک گِرہ کھل جانے سے

ترکی کے شہر استنبول کی چار نمایاں خوبیاں ہیں۔

یہ شہر میزبانِ رسول (حضرت ایوب انصاریؓ) کے میزبانوں کا شہر ہے۔ ایوب انصاریؓ 92 سال کی عمر میں اُس فوج کا حصہ بن کر آئے جس نے استنبول(قسطنطنیہ )کو پہلی بار فتح کیا۔ ایوب انصاری کا مزار بھی اس شہر میں ہے۔ تمام تُرک آپ کو محبت سے سلطان ایوب کہتے ہیں اگرچہ آپ کبھی سلطان(بادشاہ )نہیں رہے۔

مگر جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ*

٭ یہ بہت خوبصورت شہر ہے۔ اس کے موسم، پہاڑی ڈھلوانیں، دریا اور پانی کے جھرنے اسے طلسماتی شہر میں بدل چکے ہیں۔ سونے پہ یہ سُہاگا کہ شہر کی جس چوٹی پہ کھڑے ہو کر دیکھیں آپ کو ہر جانب دلکش مساجد کے جھُرمٹ نظر آئیں گے۔

٭ پچھلے بیس بائیس سالوں میں طیب اردگان کی قیادت میں اس شہر نے بہت ترقی کی ہے۔کُشادہ سڑکوں، پُلوں، سُرنگوں، ریلوے لائینوں اور ایر پورٹس کے جال بچھائے گیے ہیں۔ دینی و اخلاقی اقدار واپس لوٹی ہیں۔ اسی ایک شہر میں درجنوں نئی یونیورسیٹیاں بنی ہیں اور لاکھوں بین الاقوامی طلبہ نے ادھر کا رُخ کیا ہے۔

٭ استنبول اب ٹور ازم کا بھی بڑا مرکز (Hub) بن چکا ہے۔ شہر کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ لگ بھگ اتنے ہی سیاح سالانہ اس شہر کو دیکھنے آتے ہیں۔ اتنے رش کے باوجود صفائی اور حُسنِ انتظام مثالی ہے۔
تاہم امیر العظیم صاحب (سکریٹری جنرل)اور آصف لقمان قاضی صاحب (ڈائریکٹر امورِ خارجہ) کی قیادت میں 19جون کو استنبول پہنچنے والا قافلہ شہر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے یہاں نہیں پہنچا تھا۔ یہ لوگ توجائزہ لینے آئے تھے کہ مسلم دنیا کا یہ انوکھا ملک جمہوری، معاشی، اخلاقی اور تعلیمی ترقی کے اس مقام تک کیسے پہنچا۔اس کی سیاسی و سماجی بُنت ( سٹرکچر)کیا ہے؟

وفد نے اپنےآٹھ روزہ قیام کے ہر ہر لمحہ کو قیمتی بنایا۔مقبول ٹی وی چینل “نیوز7” کے مالک کی دعوت پر انکے ہیڈ آفس کا تفصیلی دورہ کیا اور بریفنگ لی۔ ترکی کے بڑے رفاہی ادارے ٹکا (TIKA) اور تعلیمی نٹ ورک معارف کے سربراہوں سے مفصل ملاقاتیں کیں۔ استنبول کے ڈسٹرکٹ میئر نے لنچ پہ مدعو کیا اور ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ پہ بریفنگ دی اور اُن سے سوال و جواب کی بھرپور نشست ہوئی۔

ترکی کی سیاست کو نئی زندگی دینے والے سابق وزیرِ اعظم نجم الدین اربکان مرحوم کی جماعت سعادت پارٹی کی لیڈرشپ سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ہم سب کو اس عظیم لیڈر کی قبر پر فاتح خوانی کی سعادت بھی ملی۔ترکی کے قبرستان پھولوں سے اس قدر لدے ہوتے ہیں کہ ایسی جگہ مرنے جانے کو جی چاہتا ہے۔ ایک اہم وزٹ موسِی آد (MOSIAD) کے ہیڈ کوآرٹر کا تھا۔ موسی آد ترکی کا سب سے بڑا بزنس فورم ہے۔ کوئی بیس ہزار سے زیادہ کاروبار اس سے وابستہ ہیں۔ فورم کے صدر نے خوش آمدید کہا اور بریفنگ دی۔

البتہ سب سے زیادہ مفید اور موثر بات چیت صدر طیب اردگان کے مشیر اور پارٹی دانشور نعمان کرتلماش سے رہی۔ ترکی کے بیشتر قائدین ترکی زبان ہی میں بات کرتے ہیں پھر کوئی ترجمان انگلش یا اردو میں مفہوم بتا دیتا ہے۔ نعمان صاحب نے البتہ بہت رواں اور خوشگوار انگلش میں بہت اپنائیت اور کھلے پن سے بات کی۔ وہ مولانا مودودی کی تحریروں اور جماعت اسلامی کے کام سے پوری طرح واقف تھے۔ ان سے حکمران اے، کے (AK) پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے، فلسفے، برادر تنظیمات ، کامیابیوں اور نا کامیوں کے بارے بہت سے چُبتے سوالات کئے گئے مگر انہوں نے خندہ پیشانی نے جوابات دیے اور آخر میں انہوں نے دل کی بات بتا دی۔

انہوں نے کہا میں اب اپنی گفتگو کا نچوڑ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ "اے، کے پارٹی میں اگرچہ کئی سارے تحریکی افراد موجود ہیں، تاہم اے، کے پارٹی کوئی تحریکی و انقلابی جماعت نہیں۔ ہم خالصتا” ایک سیاسی جماعت ہیں، جو ترقیاتی پروگراموں اور ترک قومی وقار کی سر بلندی کی بنیاد پر سیاسی عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔ سروے ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں نظریاتی ووٹ صرف چھ فیصد تک ہیں۔اِس کی بنیاد پر انتخاب جیت کر حکومت بنانا کسی طورممکن نہیں۔ لہذا ہم دائیں بازو کے آزاد خیال گروپوں کے تعاون سے پچاس فیصد ووٹوں کی حد عبور کرتے اور شراکتِ اقتدار کی قیادت کرتے ہیں۔ اس شراکتِ اقتدار کے ذریعے ہم نیکی کے راستے میں بچھائے گئے کانٹے تو چنتے ہیں مگر دینی و شرعی قانون سازی نہیں کر سکتے۔ ہم تطہیر افکار اور تعمیر کردار کے لئے الگ ادارے اور فورم بناتے اور اُن کی سہولت کاری کا الگ سے نظام قائم کرتے ہیں۔ علماء،طلبہ، تاجروں، مزدوروں اورکسانوں میں بھی ہم اپنے باقاعدہ ونگ نہیں بناتے۔ ایک ڈھیلے ڈھالے نظام کے تحت ان سے خاموش تعلق رکھتے ہیں۔ پارٹی ممبر شپ ہر ایک کے لئے کھلی ہے اور پارٹی لیڈرشپ کا چناؤ انتخاب کی بجائے مشاورت سے کرتے ہیں”

وفد کے اراکین دیر تک جنابِ نعمان صاحب کی پُر لطف گفتگو پر اپنی اپنی آراء کا اظہار کرتےرہے۔ مدتوں بعد میں نےکسی کامیاب سیاسی ماڈل کی حرکیات پر کسی دانشور کو اعتماد، دلیل اور فصاحت سے یوں بات چیت کرتے سنا۔ لگا جیسے کسی شخص نے الجھی ہوئی ڈور کا سِرا ڈھونڈ کر ہاتھ میں تھما دیا ہو۔
” معاشرے میں نظریاتی ووٹ پانچ سات فیصد سے زیادہ نہیں ہوتے۔ دانشمند قیادت کامیاب حکمتِ عملی اوراپنی مہارت سے عام لوگوں کو شریک اقتدار کرکے آگے بڑھ سکتی ہے۔”

مجھے ایک دم سے امجد اسلام امجدیاد آئے اور دل نے یہ شعر گنگنانا شروع کردیا۔

کیسی گہری بات سُنی ہے ہم نے اک دیوانے سے
ساری گِرہیں کھُل جاتی ہیں ایک گِرہ کھُل جانے سے

یہ ایک گِرہ مگر ہمارے ہاں کیسے کھُلے؟ جماعت کا وفد اتنے دنوں تک اسی سوچ بچار میں گھُومتا اور بحث و مباحثہ کرتا رہا۔

اس مطالعاتی وفد میں عنایت اللہ صاحب،صاحبزادہ طارق اللہ صاحب اور بختیار مانی صاحب بطور پارلیمانی نمائندے، زبیر گوندل صاحب، شاہد ملک صاحب،ارسلان خاکوانی صاحب جوانوں کے نمائندے، مسعود اعجازی صاحب، ڈاکٹر زاہد پرویز صاحب (یو کے) عرفان انصاری صاحب ( سعودیہ)، شاہد وارثی صاحب، سید بلال صاحب اورملک زبیر صاحب بطور دانشورجبکہ اویس قاسم صاحب، وقاص جعفری صاحب، قیصر شریف صاحب نظم جماعت کی نمائندگی اور شکیل احمد صاحب، شمشیر علی صاحب طلبہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ مجھے یقین ہے،اس خوشگوار سفر کا ہر شریک خیالات و تجربات کی ایک دنیا اپنے ساتھ لیکر واپس لوٹا ہوگا۔

مسلم دنیا کے چند ہی شہر تو ایسے ہیں جہاں آزادی کا سانس لیتے ہوئے سوچ بچار کی جوت جگائی جا سکتی ہے اور استنبول ان معدودے چند شہروں میں سب سے نمایاں ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اگرچہ تہران کے بارے خواہش کا اظہار کیا تھا مگر کیا عجب کہ ترکی کا شہر استنبول مستقبل قریب میں عالمِ مشرق کا جنیوا بن جائے۔

Read Previous

نیٹومیں شمولیت کیلیے سویڈن اور فن لینڈ کو طے شدہ دستاویز پر عمل درآمد کرنا ہوگا، میولوت چاوش اولو

Read Next

ترکیہ :روس کی چوری پکڑی گئی، یوکرین سے گندم چُرا کر لے جانے والے بحری جہاز کو پکڑ لیا

Leave a Reply