امریکہ نے منتخب افغان حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کا یہ مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ افغان صدر اشرف غنی کو برطرف کیا جائے۔
طالبان کے ترجمان نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک افغان صدر اشرف غنی اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے اس وقت تک کسی بھی امن معاہدے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ طالبان کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت کو برطرف کر کے ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جس میں طالبان کی رائے بھی شامل ہو۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن افغان عوام اور اشرف غنی کی حمایت کرتے ہیں اور طالبان کے مطالبے کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے۔
جین ساکی نے کہا افغانستان میں دیرپا امن کا حل صرف اور صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ایک پائیدار حل ہے۔ امریکہ افغانستان کی منتخب حکومت کو انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھے گا۔
افغان عوام کی زندگی کی حفاظت کے لئے امریکہ نہ صرف سیکیورٹی فراہم کرتا رہے گا بلکہ ممکن حد تک افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت بھی جاری رکھی جائے گی۔
ترجمان طالبان سہیل شاہین نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان اس وقت تک مسلح جدوجہد نہیں روکیں گے جب تک افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم نہ کی جائے جس میں طالبان کی رائے شامل ہو اور افغان صدر اشرف غنی کو ہر حال میں مستعفی ہونا پڑے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ جب تک اقتدار پر ایک مخصوص ٹولے کی اجارہ داری رہے گی اس وقت تک امن کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ ماضی میں اس طرح کی حکومتیں ناکام رہی ہیں اور موجودہ حکومت کے خاتمے تک امن ممکن نہیں ہے۔
