امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھارتی ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کی مکمل اور قانونی وضاحت پیش کرے۔ عدالت نے فی الحال اڈانی کے وکلا کی مقدمہ فوری خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
بروکلین کے امریکی ضلعی جج نکولس گاراؤفس نے اپنے حکم میں کہا کہ محکمہ انصاف کی جانب سے 18 مئی کو جمع کرایا گیا مختصر بیان عدالت کو یہ سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کس قانونی بنیاد پر کیا گیا۔
عدالت نے محکمہ انصاف کو ہدایت دی ہے کہ وہ 13 جولائی تک تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرائے۔
یہ مقدمہ 2024 میں دائر کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا کہ گوتم اڈانی نے بھارت میں شمسی توانائی کے منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سرکاری حکام کو رشوت دینے کی منصوبہ بندی کی۔
استغاثہ کے مطابق بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسدادِ بدعنوانی پالیسیوں سے متعلق گمراہ کن معلومات بھی فراہم کی گئیں جس کی بنیاد پر سیکیورٹیز فراڈ اور وائر فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے
گوتم اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ امریکی قوانین کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور استغاثہ بھارت میں مبینہ رشوت ستانی کے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دفاعی ٹیم نے محکمہ انصاف کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں اور تقریباً 500 صفحات پر مشتمل قانونی دستاویزات پیش کیں جن سے مقدمے کی قانونی اور حقائق پر مبنی کمزوریاں واضح ہوتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق امریکی جج عام طور پر استغاثہ کو کسی مقدمے پر کارروائی جاری رکھنے کا پابند نہیں بنا سکتے تاہم جب تک عدالت باضابطہ طور پر مقدمہ خارج نہ کرے، اس وقت تک الزامات قانونی طور پر برقرار رہتے ہیں۔
اسی معاملے میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے بھی دیوانی کارروائی کی تھی، جس کے تحت تصفیے میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی مالی ادائیگیوں پر رضامند ہوئے۔
اس کے علاوہ Adani Enterprises Limited نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں بھی امریکی محکمہ خزانہ کے ساتھ مالی تصفیہ قبول کیا ہے۔
محکمہ انصاف نے عدالت کو اپنے ابتدائی مؤقف میں صرف اتنا کہا تھا کہ استغاثہ نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اس مقدمے پر مزید وسائل خرچ نہیں کیے جائیں گے تاہم عدالت نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
