ozIstanbul

امریکہ اور یورپ کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتحاد

 

اسلام اور مسلمان دشمن تنظیموں کو امریکہ کی مالی مدد کا انکشاف

امریکی خیراتی اداروں اور نجی فنڈ ہاؤسز نے یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی بڑے پیمانے پر مدد کی

امریکہ میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی رپورٹ نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی 26 تنظیموں کو امریکہ کے 35 خیراتی اداروں نے 16 کروڑ ڈالر فنڈز فراہم کئے

امریکی کونسل نے

Islamophobia in the Mainstream

کے نام سے رپورٹ جاری کر دی

کونسل نے رپورٹ میں بتایا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں 2017 سے 2019 کے درمیان درجنوں امریکی خیراتی اداروں نے اسلام اور مسلمان دشمن تنظیموں کو بھاری رقوم فراہم کیں

رپورٹ کے مطابق

Christian Advocates Serving Evangelism Incorporation

Fidelity Charitable Gift Fund

Schwab Charitable Fund

Marcus Foundation

Adelson Family Foundation

اور

Jewish Communal Fund

جیسے 6 بڑے خیراتی اداروں نے اسلاموفوبیا میں ملوث تنظیموں کو رقوم فراہم کیں

یہ اسلام اور مسلمان دشمن تنظیمیں امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہیں۔ اس کام کے لئے سوشل میڈیا، روایتی ذرائع ابلاغ، عوامی اجتماعات اور دیگر ذرائع کو استعمال کیا جا رہا ہے

سب سے بڑی 6 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ امریکن سینٹر فار لاء اینڈ جسٹس کو دی گئی جو امریکہ کے خیراتی ادارے

Christian Advocates Serving Evangelism Incorporation

نے دی

یہ لاء فرم اینٹی مسلم پالیسیز کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کمپنی نے 2017 میں مسلمانوں پر پابندی لگاؤ جیسی مہم شروع کی اور امریکی عدالت میں اس پر ایک کیس بھی دائر کیا

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے کوآرڈینیٹر حذیفہ شہزاد نے کہا اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ میں اسلام اور مسلمان دشمنی کا نیٹ ورک انتہائی متحرک اور سرگرم ہے

صدر ایردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بارہا عالمی رہنماؤں کو اسلاموفوبیا پر تنبیہ کر چکے ہیں، صدر ایردوان نے اپنے کئی عوامی اجتماعات میں کہا ہے کہ یورپ میں اسلاموفوبیا ایک کینسر کی طرح پھیل چکا ہے

پچھلا پڑھیں

واٹس ایپ : وائس میسجز سے متعلق صارفین کا بڑا مسئلہ حل

اگلا پڑھیں

برطانیہ: ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بورس جانسن سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے